آذربائیجان کا ’’ریڈ ٹاؤن‘‘ ، جہاں صدیوں سے آباد ہے ایک منفرد یہودی بستی

کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلم اکثریتی ملک آذربائیجان میں ایک ایسا تاریخی قصبہ بھی موجود ہے جہاں صدیوں سے پہاڑی یہودی آباد ہیں اور آج بھی اپنی مذہبی، ثقافتی اور لسانی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں؟

آذربائیجان کے شمال میں قوبا شہر کے قریب واقع اس بستی کا نام قِرمِزی قصبہ ہے، جسے دنیا ریڈ ٹاؤن یا ریڈ ولیج کے نام سے بھی جانتی ہے۔ روسی دور میں اسے کراس نایا سلوبودا کہا جاتا تھا۔

دریائے گودیال چائے کے ایک کنارے پر قوبا شہر اور دوسری جانب یہ تاریخی یہودی بستی آباد ہے۔ یہاں رہنے والے زیادہ تر پہاڑی یہودی کہلاتے ہیں، جن کی قفقاز کے اس خطے میں موجودگی کی تاریخ کئی صدیوں پرانی ہے۔

موجودہ ریڈ ٹاؤن کی باقاعدہ آبادکاری اٹھارہویں صدی کے وسط میں ہوئی، جب قوبا کے حکمرانوں کے دور میں یہودی آبادی کو یہاں رہنے اور اپنی کمیونٹی قائم کرنے کا موقع ملا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ علاقہ قفقاز کے پہاڑی یہودیوں کے اہم مذہبی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل ہوگیا۔

اپنی زبان، اپنی روایات

ریڈ ٹاؤن کی سب سے دلچسپ خصوصیات میں سے ایک یہاں کے لوگوں کی زبان ہے۔ پہاڑی یہودی جوہوری زبان بولتے ہیں، جس کا تعلق فارسی زبانوں کے خاندان سے ہے اور اس میں عبرانی اثرات بھی موجود ہیں۔

صدیوں کے سیاسی اتار چڑھاؤ، روسی سلطنت اور پھر سوویت یونین کے دور سے گزرنے کے باوجود اس کمیونٹی نے اپنی مذہبی رسومات، تہواروں، زبان اور ثقافتی روایات کے کئی پہلو محفوظ رکھے۔

عبادت گاہیں اور یہودی ورثہ

اس چھوٹی سی بستی میں تاریخی سیناگوگ یعنی یہودی عبادت گاہیں بھی موجود ہیں۔ ماضی میں یہاں متعدد سیناگوگ ہوا کرتے تھے اور آج بھی بعض عبادت گاہیں مقامی یہودی برادری کی مذہبی زندگی کا مرکز ہیں۔

ریڈ ٹاؤن کی ایک اور خاص جگہ پہاڑی یہودیوں کا عجائب گھر ہے۔ اسے ایک سابق سیناگوگ کی عمارت میں قائم کیا گیا، جہاں اس کمیونٹی کی تاریخ، مذہبی زندگی، پرانی دستاویزات، تصاویر اور روزمرہ استعمال کی تاریخی اشیا محفوظ کی گئی ہیں۔

آبادی پہلے سے کم کیوں ہوگئی؟

ایک وقت میں یہاں پہاڑی یہودیوں کی آبادی موجودہ تعداد سے کہیں زیادہ تھی۔ تاہم سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بہت سے خاندان اسرائیل، روس، امریکا اور دیگر ممالک منتقل ہوگئے۔

اس ہجرت کے باوجود ریڈ ٹاؤن آج بھی ایک زندہ یہودی بستی ہے اور یہاں رہنے والے خاندان اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

مسلم اکثریتی آذربائیجان میں یہودی بستی

ریڈ ٹاؤن کی کہانی اس لیے بھی توجہ حاصل کرتی ہے کہ یہ مسلم اکثریتی آذربائیجان میں واقع ہے۔ آذربائیجان اسے اپنے کثیرالثقافتی اور مختلف مذہبی برادریوں پر مشتمل تاریخی ورثے کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

یہاں آنے والے سیاح ایک ہی مقام پر قفقاز کی تاریخ، پہاڑی یہودیوں کی قدیم روایات، سیناگوگ، مخصوص طرزِ تعمیر اور ایک ایسی کمیونٹی کو دیکھ سکتے ہیں جس نے صدیوں کے دوران اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔

قِرمِزی قصبہ محض ایک بستی نہیں، بلکہ قفقاز کی تاریخ کا ایک زندہ باب ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں آج بھی گلیاں، عبادت گاہیں، زبان اور روایات کئی نسلوں پر پھیلی ایک منفرد داستان سناتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں