آذربائیجان اور آرمینیا تاریخی امن معاہدے پر متفق

آذربائیجان اور آرمینیا نے دہائیوں سے جاری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں اور ممکنہ معاہدے کے متن پر متفق ہو گئے ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں روس، یورپی یونین، امریکا اور ترکیہ اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہیں۔
آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازع سابق سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کاراباخ کے علاقے پر کنٹرول کے لیے شروع ہوا۔ اس خطے میں دو بڑی جنگیں ہو چکی ہیں، ایک 1990 کی دہائی میں اور دوسری 2020 میں۔ بعد ازاں، ستمبر 2023 میں آذربائیجان نے صرف 24 گھنٹے کی فوجی کارروائی میں پورے علاقے پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں تقریبا ایک لاکھ سے زیادہ نسلی آرمینیائی باشندے کاراباخ سے فرار ہو گئے۔
آذربائیجان کے وزیر خارجہ، جیہون بیراموف نے اعلان کیا کہ، آرمینیا کے ساتھ امن معاہدے کے متن پر مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، آرمینیا نے وہ دو شقیں بھی قبول کر لی ہیں جو پہلے حل طلب تھیں، جس کے بعد معاہدہ دستخط کے لیے تیار ہے۔
آرمینیا کی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ، معاہدے کے مسودے پر تمام مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور امن معاہدے پر جلد دستخط کیے جائیں گے۔
یہ معاہدہ نہ صرف آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دہائیوں پر محیط دشمنی کے خاتمے کی امید پیدا کرتا ہے، بلکہ خطے میں سیاسی استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اس پیش رفت سے جنوبی قفقاز میں جاری کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور خطے میں معاشی ترقی اور سفارتی تعلقات کو فروغ مل سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ، یہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ روس، ترکیہ، امریکا اور یورپی یونین سبھی اس تنازع میں کسی نہ کسی شکل میں شامل رہے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں