’اسپرین‘ کینسر کے خلاف مؤثر ہوسکتی ہے، نئی تحقیق میں انکشاف

اسپرین مشہور دوا ہے جسے ہمارے ہاں سردر، بخار وغیرہ کےلئے لیا جاتا ہے، اسے لو ڈوز میں خون پتلا کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسپرین ہمارے ہاں ڈسپرین کے نام سے ملتی ہے جبکہ لو ڈوز ڈسپرین کی مشہور ٹیبلٹ لوپرن 75 ہے۔ بعض لوگوں کو ڈسپرین سے معدے میں تیزابیت کا ایشو بھی پیدا ہوتا ہے تو ڈاکٹرز عموماً ایسے لوگوں کو یہ دوا لینے سے منع کر دیتے ہیں۔ لو ڈوز ڈسپرین اسی وجہ سے کوٹڈ ہوتی ہے تاکہ معدے کے لئے مسئلہ پیدا نہ ہو۔
اب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کس طرح اسپرین کچھ کینسروں کو پھیلنے سے روک سکتی ہے، اسے ایک غیر معمولی دریافت سمجھا جا رہا ہے۔ نئی تحقیق میں جو شواہد سامنے آئے ہیں، اس کے مطابق اسپرین(ڈسپرین) کینسر کے مہلک خلیوں کو پکڑنے میں مدد کے لیے مدافعتی نظام کو بڑھانے میں معاون ہے۔
نئی تحقیق کے دوران محققین نے چوہوں میں 810 جینز کی جانچ کی اور 15 ایسے پائے جو کینسر کے پھیلاؤ کو متاثر کرتے ہیں۔جبکہ تجربات سے پتہ چلا کہ اسپرین یعنی ڈسپرین اس سب کچھ کو روکنے میں معاون ہے۔
محققین اب یونیورسٹی کالج لندن میں پروفیسر روتھ لینگلی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جو اس تحقیق کی قیادت کر رہے ہیں کہ آیا اسپرین ابتدائی مرحلے کے کینسر کو واپس آنے سے روک سکتی ہے یا اس میں تاخیر کر سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ابھی اس حوالے سے کلینکل ٹرائلز مزید ہونے ہیں تو اپنے طور پر ڈسپرین لینا شروع نہ کر دیں ، اس سے پہلے ڈاکٹروں سے مشورہ کر لیں۔ لوگوں کے ایک چھوٹے سے تناسب میں، اسپرین سنگین ضمنی اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ دریافت بہرحال اس لئے اہم ہے کہ اسپرین بہت سستی دوائی ہے اور اس سے کینسر کے علاج میں مدد مل سکتی ہے تو یہ عام مریض کے لئے خریدنا آسان رہے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں