امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایک نئی سفری پابندی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت افغانستان اور پاکستان کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام سیکیورٹی اور جانچ پڑتال کے خدشات کی بنیاد پر اٹھایا جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے نافذ العمل ہو سکتا ہے۔
اس مجوزہ پابندی سے ہزاروں افغان شہری متاثر ہوں گے جو امریکا میں پناہ گزین یا خصوصی امیگرنٹ ویزا کے تحت آباد ہونے کے منتظر ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ کام کیا تھا اور اب طالبان کی انتقامی کارروائیوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اس ممکنہ پابندی کے خلاف امریکی کانگریس میں نیشنل اوریجن بیسڈ اینٹی ڈسکرمنیشن فار نان امیگرینٹس ایکٹ دوبارہ متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد کسی بھی صدر کو مذہب کی بنیاد پر سفری پابندیاں عائد کرنے سے روکنا ہے۔ اس بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ، سابقہ مسلم بین نے امریکا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا اور اب اس طرح کی مزید پابندیوں کو روکنے کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔
پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ، ان کے ویزوں میں کم از کم چھ ماہ کی توسیع کی جائے، کیونکہ امریکی پناہ گزین پروگرام کی معطلی کے بعد وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ تقریبا 20 ہزار افغان شہری، جن میں سے کئی کے ویزے ختم ہو چکے ہیں، امریکا میں آبادکاری کے منتظر ہیں اور انہیں گرفتاری اور ملک بدری کا خوف لاحق ہے۔
یہ صورتحال ان افغان شہریوں کے لیے شدید مایوسی کا باعث ہے جنہوں نے طالبان کے خوف سے اپنا ملک چھوڑا اور اب پاکستان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، امریکی پالیسی میں اچانک تبدیلی نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور وہ خود کو دھوکہ خوردہ محسوس کر رہے ہیں۔