برصغیر کے عظیم مفکر، شاعر اور فلسفی محمد اقبالؔ نے اپنی شاعری میں صرف روحانیت اور اخلاقی تعلیمات ہی پیش نہیں کیں بلکہ عالمی سیاست، تہذیبی بقا اور مسلم دنیا کے مستقبل کے بارے میں بھی گہری بصیرت فراہم کی۔ ان کی نظم جمیعتِ اقوامِ مشرق دراصل ایک فکری اور سیاسی منشور ہے جس میں انہوں نے مغربی طاقتوں کے بنائے ہوئے عالمی نظام کو سمجھاتے ہوئے مشرقی اقوام خصوصاً مسلم دنیا کو اتحاد کی دعوت دی۔ اقبال کے زمانے میں دنیا پہلی عالمی جنگ کے بعد ایک نئے سیاسی نظام کی تشکیل سے گزر رہی تھی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد فاتح یورپی طاقتوں نے عالمی امن کے نام پر ایک ادارہ قائم کیا جسے League of Nations کہا جاتا ہے اور اس کا مرکز جنیوامیں قائم کیا گیا۔ بظاہر اس ادارے کا مقصد دنیا میں امن قائم کرنا اور تنازعات کو سفارتی طریقوں سے حل کرنا تھا، مگر عملی طور پر یہ ادارہ بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے تابع نظر آیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اسی تصور کو ایک نئے عالمی ادارے کی شکل دی گئی جسے اقوامِ متحدہ کہا جاتا ہے اور اس کا صدر دفتر نیو یارک میں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کو عالمی امن اور انصاف کا محافظ قرار دیا گیا، مگر گزشتہ کئی دہائیوں کے واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی طاقتوں کے مفادات اکثر انصاف اور اصولوں پر غالب آ جاتے ہیں۔
اقبال نے اپنی نظم میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کی ملوکیت نے سمندروں اور فضاؤں کو اپنی طاقت سے مسخر کر لیا ہے۔ بحری اور فضائی قوت نے انہیں دنیا کے مختلف خطوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت دی ہے اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ طاقت ہمیشہ قائم رہے گی۔ مگر اقبال تاریخ کے ایک بنیادی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وقت کا دھارا ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا اور عالمی طاقتیں بھی ہمیشہ مستقل نہیں ہوتیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت کے مراکز مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی رومی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی، پھر برطانوی سلطنت نے دنیا کے وسیع حصے پر حکمرانی کی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہوتا گیا۔ اسی پس منظر میں اقبال نے ایک اہم تصور پیش کیا کہ اگر مشرقی اقوام خصوصاً مسلم دنیا اپنی ایک مشترکہ جمیعت قائم کریں اور اس کا مرکز تہران ہو تو شاید دنیا کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اقبال کی یہ تجویز دراصل ایک تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی اتحاد کا تصور تھی جو مشرقی اقوام کو مغربی سیاسی بالادستی سے نجات دلا سکتا تھا۔
اگر موجودہ عالمی حالات کا جائزہ لیا جائے تو اقبال کی یہ فکر غیر معمولی حد تک حقیقت کے قریب محسوس ہوتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت عالمی سیاست کا سب سے حساس خطہ بن چکا ہے۔ خاص طور پرغزہ پٹی میں جاری جنگ اور اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں کے اندازوں کے مطابق اس جنگ میں ہزاروں شہری جانیں گنوا چکے ہیں اور بڑی تعداد میں بچے اور خواتین متاثر ہوئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی بحران نے عالمی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔اسی دوران ایک اور خطرناک کشیدگی اسرائیل اور امریکہکے درمیان بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، جس میں امریکہکی واضح سیاسی اور عسکری حمایت اسرائیل کو حاصل ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں اس کے علاقائی اثر و رسوخ اور اسرائیل کے سکیورٹی خدشات نے گزشتہ برسوں میں کئی بار خطے کو براہِ راست جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے شام اور دیگر مقامات پر ایران سے وابستہ اہداف پر فضائی حملے اور ایران کی جانب سے میزائل و ڈرون صلاحیتوں کا مظاہرہ خطے میں ایک خطرناک عسکری توازن پیدا کر چکا ہے۔ اگر یہ عالمی جنگ مکمل جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ خلیج فارس سے گزرنے والی عالمی تیل کی بڑی مقدار میں رکاوٹ اس بڑے تصادم کی صورت میں عالمی منڈیوں کو شدید بحران میں مبتلا کر چکی ہے۔عالمی سیاسی ماہر جوہن مئیر شیمر جیسے تجزیہ کار بھی اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بڑی طاقتوں کی مداخلت اکثر علاقائی تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک بڑی طاقتوں کی اسٹریٹجک کشمکش کا میدان بن جاتے ہیں۔ان حالات میں اقبال کا تصور جمیعتِ اقوامِ مشرق ایک بار پھر غیر معمولی اہمیت اجاگر کر تا ہے۔ اگر مشرقی اور مسلم ممالک مشترکہ سفارتی حکمت عملی اختیار کریں، اقتصادی تعاون کو فروغ دیں اور دفاعی سطح پر باہمی تعاون بڑھائیں تو وہ نہ صرف اپنے خطے کو بڑی طاقتوں کی پراکسی جنگوں سے بچا سکتے ہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک مؤثر قوت بھی بن سکتے ہیں۔
مسلم دنیا کے پاس بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں۔ دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر مشرقِ وسطیٰ میں واقع ہیں اور عالمی تجارت کے اہم ترین سمندری راستے بھی اسی خطے سے گزرتے ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی اختلافات اور علاقائی رقابتیں مسلم دنیا کو ایک مضبوط عالمی بلاک بننے سے روکے ہوئے ہیں۔ اگرچہ آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن جیسے ادارے موجود ہیں، مگر اکثر یہ ادارے عملی اقدامات کے بجائے رسمی بیانات تک محدود رہتے ہیں۔ اگر اس ادارے کو حقیقی معنوں میں ایک مؤثر سیاسی، اقتصادی اور سفارتی اتحاد میں تبدیل کیا جائے تو مسلم دنیا عالمی سیاست میں کہیں زیادہ مضبوط کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہوتی ہیں تو عالمی سیاست کا توازن بدل جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال یورپی یونینہے جہاں مختلف ممالک نے اقتصادی اور سیاسی اتحاد قائم کر کے ایک مضبوط عالمی بلاک تشکیل دیا۔آج جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے صف بندی کر رہی ہیں تو مسلم دنیا کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اگر وہ متحد ہو جائیں تو نہ صرف اپنے خطے کو تباہ کن جنگوں سے بچا سکتے ہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئی اور متوازن طاقت کے طور پر بھی ابھر سکتے ہیں۔
آخر میں علامہ اقبال کے یہ اشعار ایک بار پھر ہمارے سامنے ایک فکری سوال رکھ دیتے ہیں۔
؎ پانی بھی مسخر ہے، ہوا بھی ہے مسخر
کیا ہو جو نگاہِ فلکِ پیر بدل جائے
؎ طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
آج کی جنگوں، عالمی سیاست اور بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اقبال کا یہ خواب محض شاعرانہ خیال نہیں بلکہ ایک عملی سیاسی تصور بھی ہو سکتا ہے۔ اگر مشرقی اقوام خصوصاً مسلم دنیا اپنی قوت کو پہچان لے، اپنے اختلافات کو کم کرے اور اتحاد کی راہ اختیار کرے تو ممکن ہے کہ واقعی تاریخ کا دھارا بدل جائے اور کرہء ارض کی تقدیر ایک نئے رخ پر گامزن ہو جائے۔