ترجمان دفتر خارجہ، شفقت علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ، جعفر ایکسپریس حملے میں افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی، اور تحقیقات کے دوران افغانستان سے ہونے والی کالز کا سراغ ملا ہے، جو اس حملے میں دہشتگردوں کے بیرونی روابط کی تصدیق کرتا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ، پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشتگردی کا شکار ہے اور اس واقعے میں بھی ایسے ہی شواہد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ، حکومت پاکستان جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور اس حوالے سے افغانستان کے ساتھ ماضی میں بھی تفصیلات شیئر کی جاتی رہی ہیں۔
شفقت علی خان نے مزید کہا کہ، پاکستان، افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور قریبی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور سفارتی سطح پر اس تسلسل کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ، پاکستان بھارت کی دہشتگردی میں مداخلت سے متعلق اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لایا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اس پروپیگنڈے کو بھی رد کیا کہ، پاکستان طورخم سرحد کو بند رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ، افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد کے اندر غیر قانونی تعمیرات کی کوشش کی گئی تھی، جس پر پاکستان نے اعتراض کیا۔
امریکا میں پاکستانیوں کے داخلے پر پابندی سے متعلق بات کرتے ہوئےترجمان نے کہا کہ، پاکستان نے امریکا میں پاکستانی شہریوں کے داخلے پر ممکنہ پابندیوں کی خبروں کا نوٹس لیا ہے، تاہم، یہ اطلاعات محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
شفقت علی خان نے کہا کہ، اسپین میں گرفتار پاکستانی شہریوں میں سے 4 کو عدالتی احکامات پر رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی قیدیوں سے ملاقات کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دی گئی ہے۔ تاہم، اب تک قونصلر رسائی کی اجازت نہیں ملی، اور پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے پر کام کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحت کی کہ، پاکستانی سفیر احسن وگن نجی دورے پر امریکا جا رہے تھے اور انہوں نے اس حوالے سے وزارت خارجہ کو باضابطہ آگاہ بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ، احسن وگن سفارتی استثنیٰ کے متقاضی نہیں تھے اور انہیں ابتدائی چیکنگ کے بعد دوسری بار اسکریننگ کے لیے روکا گیا تھا، لیکن بعد میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ، حکومت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور جیسے ہی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، انہیں شیئر کیا جائے گا۔
شفقت علی خان نے بتایا کہ، ڈپٹی وزیراعظم، اسحٰق ڈار نے جدہ میں او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور انہیں دیگر ممالک میں منتقل کرنے کے کسی بھی منصوبے کی مخالفت کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ، اجلاس کے دوران اسحٰق ڈار نے ترکیہ، مصر، بنگلہ دیش، آذربائیجان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کی، جبکہ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل، حسین براہیم طحٰہ سے بھی اہم تبادلہ خیال ہوا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ، پاکستان مغربی کنارے اور غزہ میں جاری جارحیت کے فوری خاتمے پر زور دیتا ہے اور فلسطینی عوام کی مکمل آزادی کی حمایت جاری رکھے گا۔
ترجمان نے کہا کہ، پاکستان عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین پر بھارتی پابندیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ، بھارت اب تک مقبوضہ کشمیر میں 16 جماعتوں پر پابندی لگا چکا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان جعفر ایکسپریس حملے میں بیرونی مداخلت کے ثبوتوں کو سفارتی سطح پر اجاگر کرے گا۔ ساتھ ہی ساتھ، ملک اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے کام جاری رکھے گا، جبکہ عالمی سطح پر کشمیری اور فلسطینی عوام کی حمایت کو بھی مضبوط بنائے گا۔