امریکہ اور ازبکستان کے درمیان “دو طرفہ ثقافتی ورثے کا تحفظ ” معاہدے کے تحت امریکی سفارت خانے کی جانب سے ازبکستان کے شہر، سمرقند میں واقع شیر-دار مدرسہ کے تحفظ اور بحالی میں تعاون کیلئے ازبکستان کے ثقافتی ورثہ ایجنسی اور ازبکستان آرٹ اینڈ کلچر ڈیوپلمنٹ فاونڈیشن کے ساتھ نئی شراکت داری کا اعلان کیا گیا ے۔ 5 لاکھ ڈالرز کا یہ منصوبہ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سینٹرل ایشین اسٹڈیز کی تکنیکی مدد سے شروع کیا جائے گا۔ امریکی سفارتی ز فنڈ برائے ثقافتی تحفظ کی مدد سے یہ 14واں منصوبہ ہےجس کے تحت ابھی تک ازبکستان کو تقریبا 13 لاکھ 50 ہزار ڈالرز فنڈ دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے غیر ملکی ماہرین کی مشاورت ، مقامی ہنرمندوں اور ماہرین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔
امریکی سفیر جوناتھن ہینک کا موقف
امریکی سفیر جوناتھن ہینک کا کہنا ہے کہ، “ہم تاریخی رجستان اسکوائر میں خوبصورت اور مشہور شیر-دور مدرسہ کی بحالی کی کوششوں کا حصہ بننے پر نہایت پرجوش ہیں۔ یہ کوششیں آنے والی کئی نسلوں اور پوری انسانیت کے لیے اس اہم یادگار کو محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ اس طرح کی شراکت داری ہمارے ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی، جو اس اہم یادگار اور ازبکستان کی ثقافتی میراث کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گی”۔
ثقافتی ورثہ ایجنسی کے ڈائریکٹر بخودیر عبدی کریموف کے خیالات
ثقافتی ورثہ ایجنسی کے ڈائریکٹر بخودیر عبدی کریموف کا کہنا ہے کہ، “شیر-دور مدرسہ کے تحفظ اور بحالی کا منصوبہ، جو ازبکستان میں امریکی سفارت خانے اور ثقافتی تحفظ کے لیے امریکی سفیروں کے فنڈ کے تعاون سے شروع کیا جائے گا، ازبکستان اور امریکہ کے درمیان مکمل تعاون کا واضح ثبوت ہے۔ ہم امریکی سفارت خانے کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ، انہوں نے اس منصوبے کی حمایت کی ۔ ہمیں یقین ہے کہ، ہمارا مستقبل میں تعاون مزید مضبوط ہوگا اور اس طرح کے منصوبوں کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہے گا”۔
یاد رہے، ازبکستان کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز کا انتخاب ایک عالمی مقابلے کے دوران کیا گیا، جو ان مقابلوں میں سب سے بڑا اور اب تک ازبکستان کیلئے سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔