(صحافتی یادوں کی دھنک، پہلی قسط)
یہ میرے صحافت کے ابتدائی برسوں (1996-1999) کا ذکر ہے ۔ اردو ڈائجسٹ میں بطور سب ایڈیٹر کام کرتا تھا جبکہ رہائش ان دنوں پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ واقع علامہ اقبال میڈیکل کالج کے ہاسٹلز میں تھی۔
نوے کے عشرے میں یہ عام رواج تھا، شائد آج کل بھی ہو کہ لاہور سےباہر کے نوجوان اپنی تعلیم یا جاب کی ابتدا میں لاہور آتے ، تو بطور آوٹ سائیڈر اپنے دوست طلبہ کے ساتھ ان کے ہاسٹلز میں رہ جاتے۔ظاہر ہے یہ غیر قانونی تھا، مگر چلتا تھا اور تب اتنی عقل بھی نہیں تھی کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
ویسے میری زندگی کے وہ ڈھائی تین بہت خوبصورت سال ہیں جو ہاسٹل میں گزارے۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج کا نیا کیمپس بہت خوبصورت تھا، چاروں کونوں میں سٹوڈنٹ ہاسٹلز تھے، میں چار نمبر ہاسٹل میں کچھ عرصہ رہا، پھر ایک دوست کی توسط سے ایک سال کے لئے ڈاکٹرز ہاسٹلز میں کمرہ مل گیا، یہ ہاسٹل ہائوس جاب کرنے والے نوجوان ڈاکٹرز کے لئے مختص تھا، کوئی ڈیڈھ پونے دو سال اسی ہاسٹل میں رہا۔ حتیٰ کہ آوٹ سائیڈرز کے لئے بہت سختی ہوگئی اور پھر ایک دن ہم نے اپنا بوریا بستر اٹھایا اور بہاولپور، احمد پور کے چند دوستوں کے ساتھ شفٹ ہوگیا جو بی بی پاک دامن کے علاقہ میں ایک اپر پورشن یا چوبارہ کرائے پر لے کر رہ رہے تھے۔
بی بی پاکدامن کا قصہ بعد کا ہے۔ ابتدائی برسوں میں ہاسٹل میں مقیم رہا۔ دن کو سمن آباد میں اردو ڈائجسٹ کے دفتر جاتا۔ صبح نو سے پانچ بجے جاب تھی، شام کو ہاسٹل واپس آ جاتا۔ تنخواہ ملتی تو اگلے چند دن میں لاہور کے مشہور روایتی کھانوں کے سپاٹ تلاش کرتا اور وہاں جا کر ہریسہ، کباب، نہاری، حلیم وغیرہ کھانے جاتا۔
مجھے یاد ہے کہ ایک بار کسی لڑکے نے بتایا کہ گوالمنڈی میں فیکے کی لسی مشہور ہے اور نواز شریف بھی منگوایا کرتے ہیں۔ عامر خاکوانی سے رہا نہ گیا، اگلے سنڈے گوالمنڈی پہنچ گیا، ڈھونڈتے ڈھانڈتے لسی والے تک پہنچ گئے اور پیڑوں والی لسی کا لطف اٹھایا۔ وہیں پر سنا کہ کوئی کہہ رہا تھا کہ ادھ رڑھکا لسی دو ۔ حیرت ہوئی کہ یہ کیا چیز ہے، پھر دیکھا کہ دکاندار نے اس گاہک کو لسی کا روایتی پیتل والا لمبا گلاس پکڑایا،دھانے پر لسی کے اوپر بنی جھاگ نما مکھن کا بڑا سا حصہ لگا تھا۔ اچھا تو یہ ہوتا ہے ادھ رڑھکا۔ جی اپ نے ٹھیک اندازہ لگایا، خاکوانی صاحب نے اگلی اتوار جا کر ادھ رڑھکا بھی نوش جاں کیا، یہ نمکین سی لسی تھی، دودھ دہی اور پیڑوں والی میٹھی، مقوی لسی سے مختلف ۔
گوالمنڈی ہی زندگی میں پہلی بار کَھد کھائی۔ اس کے بارے میں بھی پتہ چلا کہ شریف خاندان کو بہت پسند ہے اور باذوق لاہوریوں کو مرغوب ہے۔(دیکھیں ایک بات آپ بھی مان لیں کہ بے شک شریف خاندان کی سیاست ہمیں پسند نہیں رہی، مگر نواز شریف صاحب کے کھانے کے ذوق کے ہم دیرینہ قدردان ہیں۔)خیر ہم نے بھی گوالمنڈی جا کر تلوں والے نان جسے لاہوری پیار سے کلچہ کہتے ہیں ، کے ساتھ کھد کھائی۔ جو نہیں جانتا، اسے بتا دوں کہ یہ گائے یا بھینس کا جبڑے کا حصہ ہے۔
وقت وافر تھا، لاہور میں کوئی جاننے والا نہیں تھا۔ بہاولپور ڈویژن کے اکثر نوجوان تعلیم اور جاب وغیرہ کے لئے کراچی کا رخ کیا کرتے تھے، اپنے پورے خاندان میں سے واحد تھا جو لاہور آیا۔ لاہور میں جان پہچان بہت ہی کم تھی۔ان دنوں بائیک بھی نہیں تھی اور چلانی بھی نہیں آتی تھی ، ویگنوں پر سفر کرنا پڑتا یا پھر میلوں پیدل چلتا۔ اردو ڈائجسٹ کے دفتر میں بیٹھا کتابیں پڑھتا رہتا۔ یاد رہے کہ اردو ڈائجسٹ کے پاس لاہور کے کسی بھی میڈیا ہاوس سے بہتر اور بڑی لائبریری تھی۔
ہفتے میں ایک آدھ بار اپنے علاقے کے دوستوں سے ملنے بی بی پاکدامن چلا جاتا۔ یہ ایک طرف پولیس لائنز کے مقابل ، ریلوے ہیڈ کوارٹر سے ملحق آبادی ہے، دوسری طرف کا راستہ کوئین میری کالج سے جاتا ہے۔ وجہ شہرت وہاں چند سید زادیوں کے مزار ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق اہل بیت سے تھا، اسی مناسبت سے اسے بی بی پاکدامن کہا جاتا ہے۔
جب میں وہاں سے واپسی پر 33نمبر ویگن میں بیٹھ کر کیمپس کی طرف روانہ ہوتا تو یہ ویگن ڈیوس روڈ سے روزنامہ جنگ کے دفتر کے آگے سے گزرتی ۔ جنگ کی بلڈنگ تب یوں لگتی تھی جیسے سنگ سیاہ سے بنی ہو، ایک خاص قسم کی شان اور گریس اس میں پوشیدہ تھی۔ ویگن کی کھڑکی سے باہر جھانکتا ، جنگ کے دفتر پر نظر پڑتی تو بے اختیار سوچتا کہ نجانے میں کب یہاں آئوں گا؟ قدرت مجھے کب جنگ اخبار میں لے آئے گی؟
اردوڈائجسٹ میرا پہلا صحافتی ادارہ تھا۔ یہ اچھا ادارہ ہے، اس نے صحافت کی نرسری کا کام کیا، بہت سے نامور صحافیوں نے اردو ڈائجسٹ اور ہفت روزہ زندگی میں کام کیا یا یہاں سے آغآز کیا۔ جناب مجیب الرحمن شامی تو خیر ایڈیٹر رہے، ضیا شاہد، مقبول جہانگیر، آباد شاہ پوری، سید ارشاد احمد عارف، روف طاہر، شریف کیانی اور نجانے کون کون یہاں کام کرتا رہا۔ میں اردو ڈائجسٹ کے جس کمرے میں بیٹھتا تھا، وہاں مجھ سے پہلے ستار طاہر کام کیا کرتے تھے۔ ان کی بہت سی یادیں اور قصے سنے۔ خیر وہ باتیں تب ہوں گی جب اردو ڈائجسٹ کا ذکر ہوگا۔
اردو ڈائجسٹ میں آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ ایک دلدل ہے ،اس میں زیادہ دیر رہے تو گردن گردن تک دھنس جائیں گے۔ چھوٹا ادارہ تھا، تنخواہیں بھی کم تھیں ،اس ادارے کے بڑھنے کے امکانات نہیں تھے اور اصل مسئلہ یہ تھا کہ لاہور میں صحافت سے مراد روزنامہ صحافت ہی سمجھی جاتی تھی۔ ماہنامے اور ہفت روزوں کا بہترین وقت گزر چکا تھا۔ لاہور پریس کلب میں تو ماہانہ جریدے یا ڈائجسٹ والوں کو ممبر بھی نہیں بنایا جاتا تھا۔
صورتحال جاننے کے بعد یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کسی اخبار میں جایا جائے۔ تب تین چار اخبار ہی معروف تھے۔ جنگ اورنوائے وقت ٹاپ کے دو اخبار تھے۔ روزنامہ پاکستان اور خبریں بھی آ چکے تھے، مگر یہ خبریں عام تھیں کہ وہاں تنخواہ باقاعدگی سے نہیں ملتی، خاص طور سے خبریں تو بدنام تھا کہ چار پانچ ماہ تک تنخواہ نہیں ملتی۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں نے گھر پیسے نہیں بھجوانے ہوتے تھے، مگر گھر سے منگوا بھی نہیں سکتا تھا۔ والد کا انتقال ہوچکا تھا، بڑے بھائی احمدپورشرقیہ میں وکالت کر کے معاملات چلاتے تھے۔ میرے لئے وقت پر تنخواہ بہت اہم تھی اور ایک مہینہ بھی سیلری نہ ملنے پر مشکل ہوجاتی۔
مجھے ویسے جنگ اخبار پسند تھا اپنے کھلے ڈلے سٹائل کی وجہ سے۔ نوائے وقت مجھے قطعی پسند نہیں تھا، میں نے بہت کم یہ اخبار پڑھا اور کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ اس کا حصہ بنوں۔ صرف ایک موقعہ ایسا آیا کہ میں نے اس کے لئے اپلائی کیا۔ ہوا یوں کہ اخبار میں اشتہار چھپا کہ نوائے وقت کو سب ایڈیٹرز درکار ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ ملتان کے لئے لوگ رکھ رہے ہیں۔
میرا تعلق احمد پورشرقیہ سے تھا جو ملتان سے ڈیڈھ دو گھنٹے کی مسافت پر ہے، ملتان میں کئی عزیز واقارب بھی مقیم تھے۔ سوچا اور دوستوں نے بھی مشورہ دیا کہ اپلائی کر دو، اگر نوائے وقت ملتان میں جاب مل جائے تو وہاں چلے جانا۔ کل کو شادی بھی کرنی ہے، اخبارات اور جرائد میں تنخواہیں کم ہی ہوتی ہیں ۔ تمہارے لئے آسانی ہوگی کہ احمدپورشرقیہ میں اپنے گھر بیوی کو رکھنا، خود ملتان رہ جانا، ہر ویک اینڈ پر احمد پورچلے گئے،یا کسی بھی روز دفتر سے فری ہو کر ویگن پکڑی اور گھر چلے گئے ۔ یہ بات پسند آئی۔اپلائی کر دیا۔
پھر کسی نے کہا کہ کوئی سفارش بھی کراو۔ محسن فارانی صاحب اردو ڈائجسٹ میں ڈپٹی ایڈیٹر تھے ۔ نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر ارشاد احمد عارف ان کے دوست تھے، فارانی صاحب سے چپکے چپکے پورا معاملہ شیئر کیا، ان سے درخواست کی کہ ارشاد عارف صاحب سے سفارش کر دیں۔ ارشاد صاحب کا جوابی میسج ملا کہ میں تو کبھی ملتان جانے کا مشورہ نہیں دوں گا۔نوجوان عامر ہاشم خاکوانی سے کہیں کہ وہ لاہور رہ کر صحافت کرے۔ ملتان چلا گیا تو کنویں کا مینڈک بن کر رہ جائے گا۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنا ذاتی واقعہ بھی بتایا جس میں سیکھنے والی بات تھی۔
ارشاد احمد عارف صاحب کے بقول وہ جب روزنامہ جنگ سے روزنامہ نوائے وقت آئے تو ان کا تبادلہ پہلے پنڈی سٹیشن کیا گیا۔ شاہ صاحب چیف ایڈیٹر مجید نظامی صاحب کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ یہ میرے لئے نیا ادارہ ہے، میں اس کے سسٹم کو سمجھنا چاہتا ہوں، اس لئے آپ مجھے تین ماہ لاہور سٹیشن ہی میں رہنے دیں۔ نظامی صاحب مان گئے۔ جیسے ہی تین ماہ مکمل ہوئے ، ارشاد عارف صاحب پھر سے مجید نظامی صاحب کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ میں نے آپ سے تین ماہ کا وقت لیا تھا، اب آپ مجھے جس سٹیشن میں چاہیں بھیج دیں۔ مجید نظامی شائد اس بات سے متاثر ہوئے یا انہیں ارشاد عارف صاحب کے جوہر قابل کا اندازہ ہوگیا تھا، بہرحال انہوں نے کہا، نہیں اب آپ لاہور سٹیشن پر ہی کام کریں، ادارتی سیکشن میں۔
پھر طویل عرصہ تک ارشاد عارف صاحب نوائے وقت کا اداریہ لکھتے رہے، ڈپٹی ایڈیٹر بنے جو کہ نوائے وقت کے سیٹ اپ میں ایڈیٹر ہی تھا۔ ارشاد عارف صاحب نے یہ واقعہ سنانے کے بعد پیغام یہ بھیجا کہ اگر میں پنڈی یا ملتان سٹیشن چلا جاتا تو شائد وہاں ریزیڈنٹ ایڈیٹر بن جاتا مگر جو ایکسپوژر مجھے لاہور میں ملا، جو مواقع یہاں تھے ، وہ دیگر شہروں میں نہ ہوتے ۔ اس لئے عامر خاکوانی کو کہیں کہ ملتان جانے کے بجائے لاہور ہی میں مواقع تلاش کرے، اس کا اسے فائدہ ہوگا۔ یہ بات میری سمجھ میں آ گئی اور ملتان جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے مجھے یکسو کر دیا۔ وہ تھا جناب سرفراز شاہ صآحب کا مشورہ ۔
شاہ صاحب میرے مرشد ومکرم ہیں۔ بیعت وہ کرتے نہیں مگر ہمارا ان سے تعلق مرشد مرید والا ہی ہے، بہت محبت ، بہت احترام والا۔ جب نوائے وقت والا یہ معاملہ تھوڑا سا چلا تو ایک روز سرفراز شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں دعا کا کہا۔ شاہ صاحب کا ایک خاص انداز ہے، وہ کسی بھی دعا کی درخواست پر لمحاتی مراقبہ یا کرتے ہیں یا فوکس کرتے ہیں اور پھر اس کا جواب دیت ہیں۔ شاہ صاحب فرمانے لگے کہ آپ نوائے وقت کیوں جانا چاہتے ہیں؟ میں نے انہیں صاف کہہ دیا کہ میں تو نہیں جانا چاہتا، مجھے تو وہ پسند ہی نہیں، مگر آپشن یہی سامنے آ رہی ہے۔ شاہ صاحب نے کہا، آپ روزنامہ جنگ میں جائیے گا، وہاں آپ کے لئے جگہ بنے گی۔
مزے کی بات ہے کہ اس کے کچھ عرصہ بعد جنگ کا اشتہار آیا۔ میں نے اس کے لئے اپلائی کر دیا۔دعا کے لئے پھر سرفراز شاہ صاحب سے درخواست کی۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس بار مشکل ہے، دنیاوی کوشش سے ہی ہوگا۔ شائد اشارہ کسی سفارش وغیرہ کی طرف تھا۔ خیر میرے پاس کوئی تعلق تھا نہ سفارش۔ اپلائی کر رکھا تھا، مقدر پر چھوڑ دیا۔
پھر ہوا یہ کہ شائد درخواستیں اتنی زیادہ ہوگئیں کہ جنگ نے انفرادی طورپر جواب دینے کے بجائے اخبار میں چھوٹا سا اشتہار لگا دیا کہ جس نے درخواست دی ہے وہ تحریری امتحان کےلئے فلاں دن آ جائے۔ اتفاق سے انہی دنوں میرے بڑے بھائی کی شادی تھی، شائد وہ اشتہار ولیمہ والے دن ہی شائع ہوا۔ میں اپنی مصروفیت میں نہ دیکھ سکا۔ چند دن بعد واپس لاہور آیا تو پتہ چلا کہ یہ موقعہ مس ہوگیا ہے۔
اس کے سال ڈیڈھ بعد پھر جنگ میں اشتہار آیا۔ اس بار اپلائی کیا۔ تحریری امتحان کے لئے بلایا گیا۔ لاہور بورڈ کے سنٹر میں سینکڑوں لوگوں نے پیپر دیا۔ میں تو یہ دیکھ کر مایوس ہوگیا کیونکہ بہت سے ایسے لوگ تھے جو کئی برسوں سے چھوٹے بڑے مختلف اخبارات میں کام کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ مجھے تو کوئی تجربہ نہیں نیوز روم میں کام کرنے کا۔ اللہ کا نام لے کر ٹیسٹ دیا۔ مختلف انگریزی خبروں کا ترجمہ کر کے اردو خبریں بنانی تھیں، ایک مضمون بھی لکھنا تھا۔اخبار کا میں بہت عرصے سے قاری تھا، بڑی دلچسپی سے نیوز پیجز پڑھتا تھا ،ترجمہ بھی کر ہی لیتا تھا۔ جو سمجھ آئیں، اس کے مطابق خبریں بنائیں، مضمون البتہ شائد زیادہ اچھا لکھا گیا ہوگا کہ یہ میرا شعبہ تھا ۔
اللہ جانے کیا ہوا کہ مجھے بھی انٹرویو کے لئے بلا لیا گیا۔ پتہ چلا کہ کئی سو لوگوں میں سے سترہ کو انٹرویو کے لئے بلایا گیا ہے۔ نہایت رسمی سا انٹرویو تھا۔ مجھے تو خاصی مایوسی ہوئی بلکہ سچی بات ہے کہ تب یہ سمجھا تھا کہ یہ کوئی ایڈمن کے لوگ ہیں جنہوں نے ایک فارمیلٹی بھگتائی ہے۔ ایک صاحب البتہ کچھ پرکشش لگے، پرسنالیٹی بھی ان کی اچھی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ خاور نعیم ہاشمی ہیں، معروف صحافی اور جنگ کے چیف نیوز ایڈیٹر ، ان چار صحافیوں میں سے ایک جنہیں جنرل ضیا الحق کے دور میں کوڑے لگائے گئے تھے۔
انٹرویو میں ایک سوال یہ پوچھا گیا کہ ون پوائنٹ ٹو بلین کتنے ہوتے ہیں، اس احمقانہ سوال کا میں نے تحمل سے جواب دے دیا اور حیرت ہوئی کہ یہ کیا سوال ہے۔ دوسرا سوال یہ پوچھا گیا کہ آپ نے بی اے کر رکھا ہے ؟ اس بار میں نے تلخی سے انہیں کہا کہ سر آپ کے سامنے میری فائل پڑی ہے، اس میں سی وی موجود ہے۔ میں نے بتایا کہ سائنس گرایجوایشن کے ساتھ ایل ایل بی کر رکھی ہے۔ ایک آدھ کوئی اور غیر اہم سا، غیر متعلق سا سوال تھا۔
انٹرویو دے کر باہر نکلا تو شدید فرسٹریٹ، مایوس۔ تب سمجھ آئی کہ جب میرٹ پر انٹرویو نہ ہو توکتنا دکھ ہوتا ہے۔ خیر اللہ سے دعا کی جو بہتر ہو ، وہی ہو۔
اپنی طرف سے تو سو فی صد مایوس تھا، ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ کال آجائے گی۔ چند دن بعد ایک فون آیا تب موبائل تو تھے نہیں، مالک مکان کا نمبر دے رکھا تھا۔ فون سننے نیچے گیا تو جنگ کے ایچ آر سے کسی نے فون کیا اور کہا کہ آپ دفتر آ جائیں۔ نیوز روم میں ایک ہفتے کے لئے آپ کا ٹرائل ہوگا۔ سلیکٹ ہوگئے تو بطور سب ایڈیٹر سلیکٹ کر لئے جائیں گے، لیٹر بھی ملے گا۔
خوشگوار حیرت ہوئی۔ اگلے روز شائد اتوار تھا، اس سے اگلے دن شام پانچ بجے جنگ کےد فتر پہنچنا تھا۔ وہی سنگ سیاہ سے بنی عمارت جہاں آنے کی برسوں سے خواہش تھی۔ یہ تیرہ 13ڈیوس روڈ تھی۔ ریسپشن پر پہنچے، اپنا نام بتایا، اس نے اشارہ کیا اور گارڈ نے جانے دیا، اس نے بتایا کہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلے جائو، پہلی منزل پر جنگ کا نیوز روم ہے۔ ہم خراماں خراماں اوپر پہنچے۔
جنگ کا نیوز روم دیکھ کر آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ اسی نیوز روم میں میرے اگلے دو ڈھائی سال گزرے۔ یہ اور بات کہ تیرہ ڈیوس روڈ کے اس دفتر میں کام کرنا ویسا خوشگوار اور مزے دار نہیں تھا جیسا سوچتے تھے ۔ وہی بات کہ اشتہار میں جو چیز جیسی چمکدار اور شفاف نظر آتی ہے، ہوم ڈیلیوری کے بعد اس کا وہ رنگ ہوتا ہے نہ روپ۔
جنگ کے دنوں کی روداد ان شااللہ اگلے ہفتے، تاشقند اردو کی اسی ویب سائٹ پر پڑھئیے گا.