پاک بھارت ٹکراؤ یا جنگ کے دوران ابتدا میں کہیں یہ خبر چل گئی کہ ایک اور بھارتی طیارہ تباہ ہوا ہے اور بھارتی پائلٹ گرفتار بھی ہوگیا۔ انہی دنوں سوشل میڈیا پر ایک بھارتی فائٹر پائلٹ کی خبریں اور تصاویر بھی آئی تھیں۔ کسی اللہ کے بندے نے اس پائلٹ کی گرفتاری کو بھارتی خاتون پائلٹ شوانگی کے ساتھ جوڑ دیا۔ پاکستانیوں نے حسب معمولی سوشل میڈیا پرمیمز وغیرہ بنانی شروع کر دیں۔ بھارتی خاتون پائلٹ کی پاکستان میں گرفتاری ایک چٹخارے دار خبر بن گئی۔ خیر بعد میں معاملات اور طرف چلے گئے ، یہ خبر بھی نظرانداز ہو گئی ۔
جنگ بندی کے بعد گزشتہ رات سے فیس بک پوسٹیں آنا شروع ہو گئیں کہ پاکستان نے امریکہ کے دبائو پر اس خاتون پائلٹ کو نہ صرف رہا کر دیا بلکہ اس کی تصویر ٹی وی پر بھی پیش نہیں کی کہ بھارتی حکومت کو ہزیمت اور ندامت اٹھانا پڑے گی۔
کئی سوشل میڈیا انفلیونسرز نے بھی اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے۔ ایک ڈاکٹر صاحب جو کبھی تربوز کے خلاف اور کبھی سموسوں کے خلاف ویڈیوز وائرل کرا کر مشہور ہوئے ہیں، انہوں نے بھی پوسٹ جڑ دی کہ ایسا صدر ٹرمپ کی درخواست پر ہوا ہے۔
یہاں تک چلو پھر بھی خیر تھی، اس سے اگلا مرحلہ یہ ہوا کہ اس مفروضہ خبر پر یار لوگوں نے تنقیدی پوسٹیں لگانا شروع کر دیں کہ حکومت دبائو میں آ گئی ہے، بزدلی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک تو خبر بے بنیاد اور پھر اس سے حاصل کردہ نتیجے پر ایک بالکل ہی بے بنیاد تجزیہ ۔
یارو حد ہوتی ہے۔ بے پر کی اڑانا اسے کہتے ہیں یعنی ایک چیز کے پر ہی نہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہوا میں بلند پرواز کر رہی ہے۔ یہ سب سفید جھوٹ اور بے بنیاد کہانی ہے۔
تین چار باتیں سمجھ لیں۔
پہلی بات یہ کہ جب کوئی پائلٹ گرفتار ہوتا ہے تو پھر اس کا جہاز بھی لازمی نیچے گرے گا، اس کا ملبہ گرے گا اور کہیں نہ کہیں اس کی کوئی تصویر بھی سامنے آئے گی۔ وہ جہاز اور ملبہ ہوا میں تحلیل نہیں ہوجائے گا۔
دوسری بات یہ کہ بھارتی طیارے پاکستان میں آئے ہی نہیں ۔ پاکستان نے رافیل اور دیگر بھارتی طیارے انڈین حدود میں گرائے تھے۔ اس کے بعد انڈین فضائیہ سرے سے غآئب ہی ہوگئی کہ مزید طیارے نہ گرائے جائیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ جو بھارتی فضائیہ بھارتی حدود میں جا کر حملہ کرنے والے پاکستانی طیاروں کے مقابلے کے لئے نہیں آئی، وہ پاکستان حملہ کرنے کیوں آئے گی ؟
تیسرا یہ کہ کیا اتنا بڑا اور خطرناک حملہ کرنے ایک ہی طیارہ آئے گا ؟ ایسے اٹیک فارمیشن میں کئے جاتے ہیں اور ساتھ سپورٹ کے لئے دیگر جہاز بھی ہوتے ہیں تاکہ ڈاگ فائٹ میں آسانی ہو ۔ ویسے بھی ان پاک بھارت معرکوں میں زیادہ تر بی وی آر فائٹس ہوئی ہیں یعنی نظر کی وسعت سے دور کی لڑائی۔ ریڈار پر دیکھ کر سو ڈیڈھ سو کلومیٹر دور سے میزائل داغ دینا۔
چوتھا سوال یہ ہے کہ آخر بھارت اپنی اکلوتی خاتون پائلٹ کو اس مشکل ترین اور خطرناک آپریشن میں کیوں جھونکتا ؟یعنی حملہ کرنے اکیلا طیارہ آئے گا ؟ اسے بھی ایک خاتون پائلٹ چلا رہی ہوگی ؟
بھیا جی یہ بالی وڈ کی فلم نہیں ، بے رحم حقیقی دنیا ہے۔ فلم میں دیپکا پدوکون ہیروئن بن کر انہونے کام کر سکتی ہے، جنگ میں ایسا نہیں ہوتا۔ جنگ میں اپنے سب سے تجربہ کار اور بہترین پائلٹس کو بھیجا جاتا ہے، اپنے ڈیکوریٹڈ افسران کو اور اس طرح کے آپریشنز جہاں خطرہ ہو، وہاں اپنی اکلوتی خاتون پائلٹ کو نہیں بھیجا جاتا۔ یہ غیر منطقی بات ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان پر اتنا زیادہ دباو آ گیا تھا، صدر ٹرمپ کے کہنے پر انہیں خاموشی سے چپ چاپ خاتون پائلٹ کو رہا کرنا پڑا تو یقین کریں کہ اس کی خبر بھی خاموشی سے کسی نہ کسی صحافتی ذریعے کو لیک کر دی جاتی۔ پاکستان دبائو میں ایک حد تک ہی آتا ہے اور اپنی کامیابیوں کو ہر کوئی کسی نہ کسی طریقے سے ظاہر کر ہی دیتا ہے۔
اب آخری سوال یہ کہ بھارت آخر اس پائلٹ کو میڈیا کے سامنے کیوں پیش نہیں کر رہا۔ اس لئے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی ہر فضول بحث کا آفیشلی جواب نہیں دیا جاتا۔ اگر کوئی ذمہ دار صحافتی ذریعہ، عالمی میڈیا، پاکستان کا کوئی وزیر یا پاکستانی حکومت یہ کلیم کرتی تو شائد بھارتی حکومت اس کی وضاحت کا سوچتی۔ ایک بے بنیاد اور بیکار بات کی وضاحت پر وہ کیوں وقت ضائع کریں گے؟
یہ ایسی کمزور بات ہے کہ پریس بریفنگ میں کسی صحافی نے یہ سوال تک نہیں پوچھا۔ حالانکہ بھارتی ائیرمارشل سے رافیل کے گرنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ ویسے بعض بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اداروں نے فیکٹ چیک رپورٹ دی ہے جس کے مطابق پاکستانی سوشل میڈیا پر جس زمین پر گری خاتون پائلٹ کی تصاویر ہیں وہ دو ہزار تیئس کی ہیں، ایک تربیتی مشق میں طیارہ گر گیا اور پائلٹ نے پیراشوٹ سے چھلانگ لگا دی تھی۔
حرف آخر یہ کہ پاکستان نے پانچ طیارے گرائے جو بھارت میں گرے۔ اگر چھٹا طیارہ بھی گرا تو وہ بھی بھارتی حدود ہی میں گرا۔ کوئی بھارتی طیارہ پاکستان کی حدود میں ہٹ ہی نہیں ہوا تو پائلٹ یہاں کیوں نیچے اترے گا اور گرفتار ہوگا۔
یہ خبر بے بنیاد اور غلط ہے۔ حکومت پر کسی نے تنقید کرنی ہے تو اس کے لئے کسی اور بات کا سہارا لے، کوئی اور کہانی گھڑے۔ اس کہانی میں دم نہیں۔