ہم میں سے بہت سے لوگ ناشتہ میں وائٹ بریڈ (سفید ڈبل روٹی) استعمال کرتے ہیں، انہیں بران بریڈ کا ذائقہ پسند ہی نہیں آتا۔ اسی طرح آج کل پاستا اور میکرونی کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔
ان سب کے بری خبر یہ ہے کہ جدید ریسرچ کے مطابق چھنے ہوئے آٹے یا میدے کے استعمال سے دل کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سفید ڈبل روٹی اور میدے سے بنے پاستا، میکرونی کھانے والوں کے لئے طبی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اپنی غذا میں بغیر چھنا آٹا استعمال کریں۔ بران بریڈ ایک آپشن ہوسکتی ہے، تاہم یہ تسلی کرلیں کہ اسے بناتے ہوئے چوکر استعمال کیا گیا ہے اور یہ برائے نام بران بریڈ نہیں۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ سفید چاولوں کے زیادہ استعمال کے بجائے اگر ممکن ہو تو براون رائس استعمال کریں، آج کل پاکستان میں بھی اچھے سٹورز سے یہ براون رائس مل جاتے ہیں، گو ان کا ذائقہ چاولوں کے شائقین کو پسند نہیں آئے گا۔ جو کے آٹے کی بنی روٹی ایک بہترین متبادل ہے کیونکہ جو مکمل اناج ہے۔
کینیڈا کی McMaster University کی جانب سے کیے جانے والے تحقیقی مطالعے میں 9 سال کے دوران میں دنیا کے 21 ممالک کے 1.37 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا۔ نتائج کے مطابق جو لوگ "خالص اجناس” (صاف کی ہوئی) کا بکثرت استعمال کرتے ہیں ان میں "پوری اجناس” (بغیر صاف کی ہوئی) استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے اور فالج کے حملے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ صاف کی ہوئی اجناس کی مصنوعات میں ڈبل روٹی، غلے کی اجناس، میٹھی اشیاء اور پیسٹریز اہم ترین ہیں۔
طبی تحقیق کے مطابق جن افراد نے ایک دن میں صاف اور چھنے ہوئے اناج کے 7 سے زیادہ ٹکڑے کھائے ان میں جلد اموات کا تناسب 27% بڑھ گیا۔ اسی طرح ان افراد میں دل کے امراض کا شکار ہونے کا تناسب 33% اور فالج کے حملے کا امکان 47% زیادہ ہوتا ہے۔