جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم احمد اور جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے درمیان پیر کے روز ملاقات کی تصاویر اور خبریں سوشل میڈیا پر آئیں تو چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔
دراصل مولانا فضل الرحمن حافظ نعیم احمد سے ملاقات کے لئے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ، لاہور گئے اور پھر وہاں دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔ جماعت اسلامی کے آفیشل فیس بک پیج کے مطابق مولانا فضل الرحمن جماعت اسلامی کے سینئر رہنما پروفیسر خورشید احمد کی تعزیت کرنے منصورہ آئے تھے۔،”ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ غ زہ کے مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ”
مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ اتحاد امت کے نام سے پلیٹ فارم تشکیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے ستائیس اپریل کو لاہور میں جلسہ کا اعلان بھی کیا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ دیگر مذہبی جماعتوں کے قائدین اور رہنما بھی جلسے میں شامل ہوں گے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس سے ایک دن قبل غ ز ہ کے مسلمانوں سے یک جہتی کے لئے ہڑتال کی اپیل کر چکی ہے اور اسے کامیاب بنانے کے لئے خاصی محنت کی جا رہی ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں حافظ صاحب نے یہ اعتراف کیا کہ ان کے امیر بننے کے بعد (یعنی پچھلے ایک سال میں ) مولانا سے یہ پہلی ملاقات ہے ۔ اب آئندہ رابطے بڑھائے جائیں گے، ہم بھی مولانا کی خدمت میں حاضر ہوں گے وغیرہ۔ چھبیسویں ترمیم کے بارے میں اور آئندہ الیکشن کے حوالے سے بھی دونوں جماعتوں کا اختلاف سامنے آیا۔ جماعت اسلامی چھبیسویں ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے جبکہ مولانا تو اس ترمیم کو منظور کرانے والے ہیں، تاہم مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس میں حکمت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی اس ترمیم کو آئیڈیل نہیں کہتے ، ہاں یہ قابل قبول ہے، ہم نے اس میں سے متعدد شقیں ڈراپ کرائی ہیں۔ اسی طرح حافظ نعیم صاحب نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے برعکس فوری نئے الیکشن کا مطالبہ نہیں کرتے۔ انہون نے کہا کہ الیکشن کو ابھی ایک سال ہوا ہے اور اس وقت فارم پنتالیس کا ایشو ہے ، لوگوں کے پاس فارم پنتالیس موجود ہیں تو اس کی بنیاد پر الیکشن فیصلے ہونے چاہئیں۔
جے یوآئی اور جماعت اسلامی کے امیروں کی مشترکہ تصویر اور پریس کانفرنس سے بعض حلقوں کو یہ لگ رہا ہے کہ مستقبل میں یہ دونوں جماعتیں اکھٹی ہو کر سیاست کر سکتی ہیں۔ یہ اہم سوال ہے کہ کیا ایم ایم اے کی تجدید ہوسکتی ہے یا یہ دونوں بڑی دینی جماعتیں مشترکہ سیاسی ایجنڈے پر مل کر سیاست کر سکتی ہیں؟
اس حوالے سے میں نے لاہور اور کراچی جماعت کے مختلف دوستوں سے بات کی، کچھ اندرونی ذرائع سے بھی چیک کیا۔ اندازہ ہوا کہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ اس کے برعکس کہاجاتا ہے کہ سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن اور کراچی کے دیگر رہنمائوں کی طرح حافظ نعیم احمد بھی مولانا فضل الرحمن کےساتھ مشترکہ سیاست کے سخت مخالف رہے ہیں۔ وہ ماضی میں مولانا کی سیاست کے ناقد رہے ہیں۔ اس وقت ویسے بھی جماعت اسلامی کی اندرونی فضا کسی بھی قسم کے سیاسی اتحاد کے حق میں نہیں۔ جماعت کے اندر یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ ہمیں کسی اتحاد میں اپنی توانائیاں کھپانے کے بجائے اپنی الگ سیاست کرنی چاہیے۔
ویسے بھی مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے مابین بعض بنیادی ایشوز پر واضح اختلاف موجود ہے جس کا اشارہ مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی مل گیا۔ مولانا فضل الرحمن نئے الیکشن کی بات کرتے ہیں جبکہ جماعت اسلامی اگرچہ اسمبلیوں میں موجود نہیں،اس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے، اس الیکشن سے انہیں کچھ نہیں ملا، وہ اس الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی بات کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود جماعت اسلامی نئے الیکشن کا مطالبہ نہیں کر رہی۔ شائد اس لئے کہ وہ اگلے الیکشن سے پہلے کچھ سیاسی تیاری کر لینا چاہتی ہے، اپنی صفوں کو ازسرنو منظم یا جو بھی ان کی سیاسی مصلحت ہو، بہرحال جماعت اسلامی نیا الیکشن نہیں چاہتی۔
چھبسیویں ترمیم کے معاملے پر بھی ان کی سوچ تحریک انصاف سے ملتی ہے، یعنی ترمیم کو مکمل طور پر غلط سمجھنا ۔ البتہ اکا دکا ایشوز پر جماعت اور جے یوآئی کی سوچ مل سکتی ہے، مگر اس کے باوجود جماعت مشترکہ سیاست اور مشترکہ جلسوں کی طرف نہیں جائے گی۔حافظ نعیم احمد بعض ایسے اجتماعات میں خود جانے کے بجائے نائب امیر لیاقت بلوچ کو نمائندگی کے لئے بھیج دیتے ہیں۔ اسلام آباد میں علما کنونشن میں بھی حافظ نعیم خود نہیں گئے تھے اور لیاقت بلوچ کو بھیج دیا۔ ممکن ہے مولانا کی خود آمد کی وجہ سے حافظ نعیم جے یوائی کے لاہور جلسہ میں شریک ہوجائیں یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہاں بھی لیاقت بلوچ کو بھیج دیا جائے۔
اسی وجہ سے جماعت اسلامی محمود خان اچکزئی کی دعوت پر اس سیاسی پلیٹ فارم کا حصہ بھی نہیں بنی جس میں دیگر بلوچ پشتون قوم پرست جماعتیں اور تحریک انصآف بھی شامل ہے۔
جماعت اسلامی کی آزادانہ طور پر اپنی الگ حیثیت میں سیاست کرنے کا فیصلہ کم از کم رواں سال میں تو تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ البتہ جمعیت علما اسلام اور جماعت اسلامی کے درمیان سیز فائر کی صورتحال ہے، دونوں کے رہنما اور کارکن ایک دوسرے کے حوالے سے بعض تحفظات رکھنے کے باوجود کھل کر بیانات دینے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ مثبت رویہ ہے اور اسے سراہنا چاہیے ۔