پاکستان صوبہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے، جس میں اب تک190 یرغمالی مسافروں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا، جبکہ 30دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں نے حملے کے بعد ٹرین میں سوار مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا اور وہ افغانستان میں موجود اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں تھے۔ اطلاعات کے مطابق، حملہ آوروں نے خودکش بمباروں کو یرغمالی مسافروں کے قریب بٹھا رکھا تھا، جس کی وجہ سے فورسز کو انتہائی محتاط حکمت عملی اپنانا پڑی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ،دہشت گردوں نے عورتوں اور بچوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا تھا، جس کی وجہ سے آپریشن میں غیر معمولی احتیاط کی جا رہی ہے۔ فورسز نے 37 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے روانہ کیا ،جبکہ 190 مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
منگل کے روز بلوچستان کے دشوار گزار علاقے میں جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا گیا، جس میں 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا، جن میں بڑی تعداد سیکیورٹی اہلکاروں کی بھی شامل تھی۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا، جس کے دوران اب تک 30 حملہ آوروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ تاہم، دہشت گرد گروپ مختلف مقامات پر بکھر چکا ہے اور فورسز کی کارروائی تاحال جاری ہے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ، حملے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں ٹرین کا ڈرائیور اور 8 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی مسافر زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ، اس نے بڑی تعداد میں مسافروں کو یرغمال بنایا اور کچھ کو رہا بھی کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق، فورسز کی کارروائی کے باعث دہشت گرد چھوٹے گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور انہوں نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ آپریشن میں اضافی سیکیورٹی فورسز کو تعینات کیا جا رہا ہے اور علاقے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، تاکہ دہشت گردوں کے فرار کے امکانات کو روکا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ، ہائی جیکنگ کا یہ واقعہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، کیونکہ اس سے قبل دہشت گردوں نے کبھی پوری ٹرین اور اس میں سوار مسافروں کو یرغمال بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
ریلوے حکام کے مطابق، جعفر ایکسپریس میں 750 مسافروں کی بکنگ تھی، تاہم ٹرین میں 450 افراد سوار تھے، جن میں 200 سے زائد سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ، کارروائی کی حساس نوعیت کے پیش نظر مزید تفصیلات فراہم کرنا ممکن نہیں، تاہم حکام پر امید ہیں کہ، جلد ہی تمام یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کروا لیا جائے گا اور دہشت گردوں کا مکمل صفایا کر دیا جائے گا۔