پاکستانی سینیٹ سے خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کیلئے متفقہ قرارداد منظور

پاکستانی سینیٹ نے بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پر ایک متفقہ قرارداد منظور کی، جس میں تمام سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے، میڈیا، تعلیمی اداروں، اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا گیا کہ، وہ صنفی مساوات کے فروغ اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ یہ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما، شیری رحمان نے پیش کی، جس میں خواتین کی مساوی شمولیت، معاشی استحکام، اور حقوق کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔
قرارداد میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ، پاکستان ورلڈ اکنامک فورم کے جینڈر گیپ انڈیکس میں 145ویں نمبر پر ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں مزید تنزلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس تناظر میں، سینیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ، وہ خواتین کی معاشی شمولیت اور خودمختاری کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ اس میں مالی شمولیت، کاروباری وسائل تک رسائی، اور خواتین کی قیادت میں کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی شامل ہے، تاکہ خواتین کو بہتر معاشی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
قرارداد میں خواتین کی صحت کے حقوق پر بھی زور دیا گیا، جس میں ان کے لیے صحت سے متعلق فیصلے خود کرنے کے حق کو یقینی بنانے اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی گئی۔ علاوہ ازیں، زچگی اور ذہنی صحت کے حوالے سے معیاری سہولیات کی فراہمی کو بھی ضروری قرار دیا گیا، تاکہ خواتین کو صحت مند اور محفوظ زندگی گزارنے کے مواقع میسر آ سکیں۔
خواتین کے قانونی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قرارداد میں حکومت کو اس امر کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا گیا کہ، وہ صنفی بنیاد پر ہونے والے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کرے اور خواتین کے خلاف تشدد، جنسی ہراسانی اور سیاسی انتقام کے خاتمے کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک تشکیل دے۔ اسی طرح، کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ برابری کا سلوک یقینی بنانے، مساوی اجرت فراہم کرنے، اور خواتین کے لیے ترقی کے مساوی مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کے حوالے سے قرارداد میں خواتین کو معیاری تعلیم اور جدید مہارتوں تک رسائی فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، قیادت، اور فیصلہ سازی میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے بھی عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ وہ ملکی ترقی میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکیں۔ اس کے علاوہ، خواتین کو زراعت اور صنعت میں مزید مواقع فراہم کرنے، زرعی تربیت، زمین کے حقوق، اور مالی وسائل تک رسائی دینے کی بھی سفارش کی گئی، تاکہ وہ خوراک کی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
کھیلوں اور فنون لطیفہ میں خواتین کی ترقی کے حوالے سے بھی قرارداد میں خصوصی توجہ دی گئی۔ خواتین کھلاڑیوں کے فروغ، کھیلوں میں مساوی مواقع کی فراہمی، اور فنون و ثقافت میں خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے معاون اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
یہ قرارداد حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ، وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ، مساوی مواقع کی فراہمی، اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے، تاکہ پاکستان میں ایک منصفانہ، مساوی اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے، جہاں ہر عورت اور لڑکی اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ ایک باوقار زندگی گزار سکے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں