گذشتہ جمعے کو دوپہر بعد، بدنام زمانہ ہیکنگ گروپ، لیزرس نے تاریخ کی سب سے بڑی سائبر چوری انجام دی، جس میں کرپٹو ایکسچینج بائی بِٹ سے 1.46 ارب ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی چرائی گئی اور نامعلوم والٹس میں منتقل کر دی گئی۔ یہ چوری 21ویں صدی کے بدترین سائبر جرائم میں شمار کی جا رہی ہے۔
یہ گروہ مبینہ طور پر شمالی کوریا کی حکومت کے زیرِ سرپرستی کام کر رہا ہے اور ماضی میں WannaCry رینسم ویئر حملوں اور کئی کرپٹو ایکسچینج ہیکنگز میں ملوث رہا ہے۔ اس بار، انہوں نے سوشل انجینئرنگ حملے کے ذریعے بائی بِٹ کے ایتھیریم کولڈ والٹ سے فنڈز ہاٹ والٹ میں منتقل ہوتے وقت ملازمین کو نشانہ بنایا اور جعلسازی سے ٹرانزیکشن کی منظوری حاصل کی۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ہیکرز نے میل ویئر اور بلائنڈ سائننگ تکنیک کا استعمال کیا، جس میں ملازمین کو اصل ٹرانزیکشن کی تفصیلات دیکھنے نہیں دی گئیں اور انہیں غلط معلومات فراہم کر کے منظوری لے لی گئی۔ دو گھنٹوں کے اندر، چرائے گئے فنڈز 50 سے زائد والٹس میں تقسیم کر دیے گئے اور جدید منی لانڈرنگ تکنیکوں کے ذریعے انہیں چھپانے کی کوشش کی گئی۔
چونکہ کرپٹو ٹرانزیکشنز بلاک چین پر ریکارڈ ہوتی ہیں، اس لیے تفتیش کار چوری شدہ فنڈز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بلاک چین انویسٹی گیشن فرم ایلپیٹک کے مطابق، کچھ فنڈز ضبط کر لیے گئے ہیں، مگر زیادہ تر اب بھی ہیکرز کے کنٹرول میں ہیں۔
بائی بِٹ نے 72 گھنٹوں کے اندر اپنے ذخائر بحال کر دیے، تاکہ صارفین کو نقصان نہ ہو۔ کمپنی کے سی ای او، بین ژاؤ نے لیزرس گروپ کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے 14 کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہے، تاکہ چوری شدہ فنڈز کی بازیابی اور ہیکرز کی شناخت میں مدد مل سکے۔