سیاسی ڈیڈ لاک برقرار، اختلاف جوڈیشل کمیشن کا قیام یا کچھ اور؟

گزشتہ دونوں حکومت پاکستان اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے ادوار کا سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب سابق وزیر اعظم عمران خان کا پیغام پہنچاتے ہوئے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تعاون نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات کال آف کردیے گئے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کا تسلسل صرف جوڈیشل کمیشن کے قیام کی صورت میں ہی برقر ار رکھا جا سکتا ہے۔ ہفتے کے دن بھی صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن قائم نہیں ہوگا، تو حکومت کے ساتھ صرف فوٹو سیشن کے لیے نہیں بیٹھ سکتے۔

اس وقت بظاہر جوڈیشل کمیشن کا قیام ہی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تنازع کی وجہ نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف نے 16 جنوری کے اجلاس میں حکومت کے سامنے دو مطالبات تحریری طور پر پیش کیے تھے۔ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا تھا کہ نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر آزاد جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے جبکہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کو بھی جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

تاہم، سابق وزیر محمد علی درانی سمجھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے اعتماد کی فضاء کی عدم دستیابی اور رویے میں شدت فی الحال مذاکرات کے منقطع ہونے کی وجہ ہے۔ تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات برائے مذاکرات نہیں بلکہ برائے مفاہمت ہے اور اس کے لیے انصاف کا ہونا ضروری ہے۔ انصاف کی صورت میں حکومت کے لیے نقصان کا اندیشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا پیچھے ہٹنا اس کے عدم تحفظ کا شکار ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے نتیجے میں صورتحال کی درست نشاندہی ہوتی ہے اور یہ حکومت نہیں چاہتی۔

ان کا خیال ہے کہ اقتدار کےجانے اور اپوزیشن اور مقتدرہ کے درمیان ٹکراؤکی کیفیت کم ہونے کی وجہ سے حکومت مذاکرات کے تسلسل کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی کا موقف اس سے قدرے مختلف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف نے مذاکرات منقطع کرنے کا فیصلہ عجلت میں کیا ہے۔ انہوں نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرنے میں تین ہفتے کا وقت لیا۔ جوڈیشل کمیشن کا قیام کوئی معمولی کام نہیں ، یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ اس کے لیے کافی سوچ و بچار سمیت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی مشاورت ہونی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دیا جو اس کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔پی ٹی آئی کو اگرکوئی سیاسی اسپیس مل سکتی ہے تو وہ سیاسی طور پر تحمل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی قیادت خود دباؤ میں ہے کہ انہوں نے ٹھیک نہیں کیا۔

بیک ڈور مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے فرنٹ ڈور مذاکرات بند کیے ہیں لیکن بیک ڈور بند کرنے کے لیے تیار نہیں اور جوڈیشل کمیشن کا قیام در اصل اسی پاور کوریڈور کے ساتھ ہی منسلک ہے۔

“انہوں نے خود مذاکرات کا سلسلہ توڑ کر حکومت کی مشکل آسان کی ورنہ وہ تو پھنستی نظر آرہی تھی”۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا یہ سلسلہ دسمبر کے مہینے میں باضابطہ طور پر شروع ہوا تھا۔ دسمبر میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مذاکرات کے لیے تعاون کی پیشکش کی تھی، جس کے بعد دونوں جانب سے مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ۔ تاہم، ایک ماہ بعد ہی یہ مذاکرات اپنے کسی حتمی نتائج تک پہنچنے سے قبل سے ختم کر دیے گئے۔

ایک ماہ کے اس عرصے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے کل تین ادوار اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس میں سرسری طور پر ملاقاتیں اور گلے شکوؤں کے بعد حکومت نے پی ٹی آئی سے تحریری طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ کا مطالبہ کیا اور پی ٹی آئی نے اگلے اجلاس میں اس کو پیش کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

مذاکرات کا دوسرا اجلاس دو جنوری کو منعقد ہوا، لیکن پی ٹی آئی نے یقین دہانی کے باوجود بھی اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش نہیں کیا، جس پر حکومت کی جانب سے تنقید بھی کی گئی۔

اس دوسرے اجلاس میں پی ٹی آئی نے حکومت کے سامنے عمران خان سے ملاقات اور ہدایات لینے تک کا وقت مانگا، جس پر دونوں فریقین کی جانب سے اتفاق کیا گیا۔ دو جنوری کے اس دوسرے اجلاس کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار رہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جیل میں عمران خان تک بغیر نگرانی والے ماحول میں رسائی کا مطالبہ بظاہر تنازع کی وجہ بنا۔

بعدازاں ، عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر مذاکراتی کمیٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد رضا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کمیٹی تیسرے مذاکراتی راؤنڈ کے لیے تیار ہے جس میں ہم 2 مطالبات تحریری شکل میں فراہم کردیں گے۔

16 جنوری کے اجلاس میں دونوں مطالبات پیش کرنے کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دیا۔ تاہم، 22 فروری کو جوڈیشل کمیشن پر کوئی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں عمران خان کی جانب مذاکرات ہولڈ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں