افغان نیوز ایجنسی کے مطابق ازبکستان کا ایک وفد کابل پہنچا ، جہاں انہوں نے طالبان حکومت کی وزارت صنعت و تجارت کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقات کی ۔ ملاقات میں ازبکستان نے تجارتی توازن کو برقرار رکھنے کیلئے افغانستان سے کوئلے کی درآمد پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔
نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ دورے کے دوران دونوں ممالک کی نجی کمپنیوں کے درمیان 4.5 ملین ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدے طے پائے ہیں ۔
ازبک وفد کے ساتھ ملاقات میں طالبان حکومت کے وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی نے مشترکہ تجارتی نمائشوں کے انعقاد کی بھی تجویز دی ہے ۔ انہوں نے دونوں ممالک کی مقامی مصنوعات کو فروغ دینے کیلئے سالانہ پانچ نمائشیں “ترمذ انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر” میں منعقد کروانے کی پیشکش کی۔
طالبان حکومت کی وزارت تجارت کے مطابق، ازبک وفد وزیرِاعظم کے پچھلے دورہ کابل میں کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے افغانستان آیا۔ قابل ذکر ہے کہ ازبک وزیرِاعظم عبداللہ عریپوف نے اگست 2024 میں کابل کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے طالبان حکومت کے ساتھ 2.5 بلین ڈالر مالیت کے تجارتی و سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔