دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، شرکاء نے کشمیر کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسلام آباد میں دفترخارجہ سے ڈی چوک تک ریلی نکالی گئی۔ وفاقی وزرا، سرکاری افسروں،شہریوں اور سویٹ ہوم کے بچوں نے شرکت کی ۔ سائرن بجائے گئے ، شرکا نے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔
لاہور میں پنجاب بھر سے شہریوں کی بڑی تعداد مال روڈ پر جمع ہوئی، مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں نے ریلیاں بھی نکالیں۔
کراچی میں بھی کشمیریوں سےاظہار یکجہتی کیلئےریلیوں کا اہتمام کیا گیا، میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نےکے ایم سی کے مرکزی دفتر سے ریلی کی قیادت کی۔
پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی، سرکاری افسروں اور طلبہ نے شرکت کی۔
کوئٹہ میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرے،ریلیاں اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔
مرکزی مسلم لیگ نےملک بھر میں کشمیر کانفرنس، جلسے اور ریلیوں کا اہتمام کیا۔ قصور میں کشمیر کا طویل ترین پرچم لہرایا گیا ، ادھر کوہالہ انٹری پوائنٹ پر شہریوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔ پاک فوج اور پولیس کے چاک و چوبند دستے نے پاکستانی اور کشمیری پرچم کو سلامی پیش کی۔
بہاولپور، احمد پور شرقیہ، حسن ابدال ، فیصل آباد ، جھنگ ، چنیوٹ ، گوجرانوالہ ، راولپنڈی سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائی گئی۔ احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دلوائے۔