اوپن اے آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی کمپنیاں امریکی آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کو چرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اوپن اے آئی کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق وہ اور اسکی شراکت دار کمپنی مائیکرو سافٹ ان مشتبہ اکاؤنٹس کو بین کر رہی ہیں جن پر ان کے ماڈلز کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا شبہ ہے ۔ دونوں کمپنیاں اس حوالے سے بھی تحقیقات کر رہی ہیں کہ ایسی کوششوں کے پیچھے کون چھپا ہے ۔
اگر اوپن اے آئی حکام نے اپنے بیان میں چینی کمپنی ڈیپ سیک کا نام نہیں لیا لیکن بظاہر ان کا اشارہ اسی جانب تھا۔ واضح رہے کہ چینی کمپنی کے آر 1 لارج لینگوئج ماڈل نے دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے ۔ ڈیپ سیک کی آر 1 لارج لینگوئج ماڈل تیزی سے دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔
اس چیٹ بوٹ نے گزشتہ دنوں امریکی اسٹاک مارکیٹ کو بھی ہلاکر رکھ دیا تھا جسے کھربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس کمپنی کو کام کرتے ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے اور اسے عالمی سطح پر اے آئی کی دوڑ میں اہم ترین قرار دیا جا رہا ہے ۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کی جانب سے کمپنیوں کے کاروباری صارفین کو اس کے اے آئی ماڈلز کے استعمال کی اجازت دی جاتی ہے، مگر کمپنیاں ان ماڈلز کو آگے تربیت دینے کے لیے استعمال نہیں کرسکتیں۔رپورٹ میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ڈیپ سیک نے آر 1 کو تربیت دینے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کیا ہے ۔
اوپن اے آئی کے ایک ترجمان نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں چینی کمپنیوں کی جانب سے مسلسل اہم امریکی اے آئی کمپنیوں کے ماڈلز کو اپنے ماڈلز کو تربیت دینے کیلئے استعمال کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اوپن اے آئی کیلئے زیادہ اہم ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر اپنے اہم ماڈلز کا تحفظ کرے ۔
ایسا مانا جا رہا ہے کہ ڈیپ سیک کا آر 1 چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی اور گوگل کے اے آئی سسٹمز جتنا بہترین کام کر رہا ہے مگر اس کی تیاری پر انتہائی کم لاگت آئی ہے اور اس کیلئے کم طاقتور چپس استعمال کی گئی ہیں ۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اے آئی مشیرڈیوڈ ساکس کا دعویٰ ہے کہ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ڈیپ سیک نے اے آئی ماڈلز کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔