پاکستان میں ماحول دوست کاروبار کو فروغ دینے کے لیے 10 پاکستانی کاروباری اداروں نے آئندہ تین برس کے دوران مجموعی طور پر 12 کروڑ ڈالر مالیت کے سرمایہ کاری منصوبے پیش کردیے ہیں، جبکہ ان میں سے 5 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آئندہ 12 ماہ کے دوران حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ان منصوبوں کا تعلق صاف توانائی، برقی ٹرانسپورٹ، ماحول دوست تعمیرات، زراعت اور کچرے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کرنے جیسے شعبوں سے ہے۔ ان کاروباری اداروں کو برطانوی حکومت کی مالی معاونت سے تکنیکی اور مالی مشاورت فراہم کی گئی، تاکہ وہ اپنے منصوبوں کو ممکنہ سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار کرسکیں۔
اس سلسلے میں کراچی میں 27 اور 28 اکتوبر کو منعقدہ دو روزہ کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر پاکستان انویسٹر روڈ شو کے دوران کاروباری نمائندوں نے اپنے منصوبے سرمایہ کاروں، بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے سامنے پیش کیے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان براہ راست رابطے کے ذریعے ماحول دوست منصوبوں کے لیے نجی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے۔
برطانوی حکومت کی معاونت سے چلنے والے کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر پاکستان پروگرام پر ڈی اے آئی عمل درآمد کررہا ہے۔ پروگرام کے تحت کاروباری اداروں کو تکنیکی، مالی اور صنفی مساوات و سماجی شمولیت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ ان کے منصوبوں کو سرمایہ کاری کے لیے زیادہ مؤثر اور قابل عمل بنایا جاسکے۔
کراچی میں برطانیہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک برن نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ برطانیہ کی ماحولیاتی شراکت داری میں موسمیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل جمع کرنے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور ضروری پالیسی و ادارہ جاتی نظام کو مضبوط کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں حکومت پاکستان کے ساتھ دستخط کیے گئے یو کے پاکستان گرین کمپیکٹ کے تحت موسمیاتی تبدیلی، صاف توانائی، مالی معاونت، پالیسی مذاکرات، نجی سرمایہ کاری، ماحول دوست ہنر اور بین الاقوامی تعاون کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کے لیے ایک وسیع فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔
تقریب میں سندھ حکومت کے وزیر برائے بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے بھی نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل متحرک کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ معیشت، ترقی، بنیادی ڈھانچے، زراعت، شہروں، توانائی کے نظام اور عوام کے روزگار سے جڑا ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جہاں نجی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکیں۔
کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر پاکستان کی ٹیم لیڈ وردہ ملک نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کے لیے تیار پاکستانی کاروباری اداروں کو ایسے سرمایہ کاروں سے ملانا ہے جو ان کے منصوبوں کی مالی معاونت کرسکیں، تاکہ ابتدائی رابطے طویل مدتی شراکت داریوں میں تبدیل ہوں۔
ماحول دوست کاروبار اور سرمایہ کاری کے اہم شعبے
2026 کے منتخب کاروباری اداروں میں اے ایس انٹرپرائزز شامل ہے، جو فصلوں کی باقیات سے بایو کوئلہ تیار کرتا ہے، جبکہ ٹریش اٹ نامی ادارہ نامیاتی کچرے اور فصلوں کی باقیات کو جرثوموں سے تقویت یافتہ کھاد میں تبدیل کرنے پر کام کررہا ہے۔ کچرے کے انتظام اور سرکلر اکانومی کے شعبے میں صحارا ری سائیکلنگ شہری کچرے کی ری سائیکلنگ کے لیے مربوط مراکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جبکہ ویسٹ بسٹرز جے وی انٹرٹیک بلیک سولجر فلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے نامیاتی فضلے کو کارآمد بنانے پر کام کررہی ہے۔
صاف توانائی کے شعبے میں بائیوویسٹ انرجی وینچرز لمیٹڈ بایومیتھین اور کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے نظام پر کام کررہی ہے۔ گوسِیڈ اٹ کم سہولت یافتہ اور متوسط طبقے کے صارفین کو قسط وار ادائیگی کے ذریعے شمسی توانائی تک رسائی فراہم کرنا چاہتی ہے، جبکہ بائیو انرجی سلوشن پرائیویٹ لمیٹڈ زرعی اور نامیاتی فضلے سے بایوماس ایندھن کی گولیاں تیار کرتی ہے۔
تعمیرات کے شعبے میں ایکو ایج اے آئی عمارتوں میں توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے کے لیے سینسرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کررہی ہے۔ برقی نقل و حمل کے شعبے میں بس کارو شہری مسافروں اور ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے کام کررہی ہے، جبکہ ڈائیوو ایکسپریس کا منصوبہ برقی بسوں کے بیڑے اور چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری سے متعلق ہے۔
پروگرام کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران پاکستان میں 22 منصوبوں کی معاونت کی گئی اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے 4 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کرنے میں مدد ملی۔ موجودہ گروپ کے کاروبار اگر مطلوبہ سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان کے منصوبے آلودگی میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کچرے کے بہتر انتظام اور صاف توانائی و ماحول دوست ٹرانسپورٹ تک رسائی بڑھانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔