خیبر پختونخواہ ، گورنر راج سے پہلے اور بعد

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ اس انتظامی تبدیلی سے عام شہری کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہونگے ؟
پشاور میں سہیل آفریدی کی جگہ فیصل کریم کنڈی کے چیف ایگذیکٹو بن جانے سے سے بنوں کے کسی سرکاری سکول میں کیا تبدیلی آئے گی؟ سوات کے کسی ہسپتال کو کیا فائدہ ہوگا؟ باجوڑ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی ادائیگیاں کس طرح ہوں گی؟ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سڑک، پانی اور صحت کے منصوبوں کی نگرانی کون کرے گا؟
یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ صوبائی حکومتوں کا کام سیاسی بیانات دینا نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانا ہوتے ہیں۔
آئیے سب سے پہلے معزول ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس دور میں صوبے میں وسائل کی تقسیم اور تعمیر و ترقی کی کیا صورتحال تھی ۔

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ 2015 میں خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کا نیا نظام فعال ہوا تھا ۔بیان کیا گیا تھا کہ اس نظام کا بنیادی مقصد ترقیاتی منصوبوں کو صوبائی دارالحکومت سے نکال کر ضلع ، تحصیل اور مقامی سطح تک پہنچانا ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ عملی صورتحال اس سے بہت مختلف رہی ۔ دراصل قانون میں اختیار دینے اور عملی طور پر اس اختیار کو استعمال کرنے میں بہت نمایاں فرق ہے۔
دسمبر 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی 25 ضلعی حکومتوں کو دو سال کے دوران تقریباً 12 ارب 10 کروڑ روپے جاری کیے گئے، لیکن ان میں سے صرف 4 ارب 90 کروڑ روپے خرچ ہوسکے۔یعنی ضلعی حکومتوں کو جو فنڈز صوبے کی جانب سے ملے ان میں سے ساٹھ فیصد وہ استعمال ہی نہیں کر سکے۔اس سے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح ہوتی ہے کہ صرف پیسوں کی موجودگی سے تعمیر و ترقی ممکن نہیں ہوا کرتی بلکہ اس کیلئے منصوبہ بندی، انتظامی صلاحیت، نگرانی اور احتساب بھی ضروری ہیں۔

اب زرا 2026 کے اعداد و شمار دیکھ لیجیے۔خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں آباد اضلاع اور ضم شدہ علاقوں کے ضلعی ترقیاتی پروگراموں کے لیے مجموعی طور پر 52 ارب 80 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔اسی بجٹ میں تعلیم، صحت، پانی، سڑکوں اور دیگر شعبوں کے لیے بھی الگ ترقیاتی رقوم مختص کی گئیں۔لیکن یہاں بھی بنیادی سوال وہی ہے کہ ان میں سے کتنے فنڈز اضلاع کو موصول ہوئے اور کتنے خرچ ہوئے ؟ ۔ابھی تک چونکہ یہ رپورٹس سامنے نہیں آئیں لہذا یہ رائے دینا قبل از وقت ہے کہ یہ فنڈز سارے استعمال ہوئے ہیں یا نہیں ہوسکے ۔

اسی طرح دسمبر 2025 میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے 28 اضلاع کے سرکاری سکولوں کی بنیادی سہولتوں اور مرمت کے لیے تقریباً 2 ارب 74 کروڑ روپے کی گرانٹس جاری کرنے کی منظوری دی۔یہ رقم سکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے تھی۔یہاں بھی سوال وہی ہے کہ ان میں سے کتنی رقم سکولوں تک پہنچی، کتنے کلاس رومز کی مرمت ہوئی اور کتنے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولتیں ملیں؟۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ یہ گرانٹس جاری ہونے کے باوجود بھی سکولوں کی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ۔یعنی یہ فنڈز بھی ناقص منصوبہ بندی کے وجہ سے اضلاع میں استعمال نہیں ہوسکے ۔

یہی سوال صحت کے منصوبوں کے بارے میں بھی پوچھا جانا چاہیے۔پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ میں صحت کے لیے اربوں روپے رکھے تھے، تاہم ان فنڈز کا عوام کو فائدہ تب ہونا تھا جب ان کے قریبی مرکز صحت میں ڈاکٹر، ادویات اور ضروری سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔جو بدقسمتی سے ابھی تک وہاں میسر نہیں ہیں ۔

ماضی میں صوبہ خیبر پختونخواہ گورنر راج کے ادوار سے گزر چکا ہے۔ گورنر راج میں ضلعی ترقیاتی فنڈز کم ہوئے یا زیادہ ، مقامی منصوبے رک گئے یا بحال رہے ، ہمیں اس بحث سے کوئی غرض نہیں ۔اصل موضوع یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں تعمیر و ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی بہتر تھی یا گورنر راج کے بعد اس میں کوئی مثبت تبدیلی رونما ہوئی ہے ۔ میرے نزدیک اس کا سادہ حل یہ ہے کہ تحریک انصاف کے بجٹ، فنڈز کے اجرا اور منصوبوں کی تکمیل کا موازنہ آج ،یعنی گورنر راج کے بعد قائم ہونے والی حکومت سےکر لیا جائے ۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ غیرمعمولی حالات میں صوبوں میں مداخلت ضروری ہوجاتی ہے، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ گورنر راج عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے ۔ان دونوں مؤقفوں کو جانچنے کا ایک عملی اور آسان طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گورنر راج سے پہلے اور بعد کے ضلعی اخراجات عوام کے سامنے رکھ دیے جائیں۔

بتایا جائے کہ کتنی رقم مختص ہوئی، کتنی جاری ہوئی، کتنی اضلاع تک پہنچی اور اس وقت کن منصوبوں پر کام جاری ہے ۔یہ بھی بتا دیا جائے کہ اس وقت بلدیاتی اداروں کو ان کے قانونی اختیارات اور مالی وسائل کس حد تک میسر ہیں۔کیونکہ ایک عام شہری کے لیے صوبائی خودمختاری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے علاقے کی ضرورت کے مطابق فیصلہ ہو، ترقیاتی وسائل منصفانہ طریقے سے تقسیم ہوں اور خرچ ہونے والی رقم کا حساب عوام کے سامنے رکھا جائے ۔

خیبر پختونخوا کے مالیاتی نظام کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ ایک جمہوری حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ کے باوجود سکول، ہسپتال، سڑکیں اور عوامی سہولیات کے اقدمات کو یقینی بنایا جاتا ہے یا نہیں ۔وفاق اور صوبے کے درمیان اختیار کی بحث اپنی جگہ، لیکن عوام کا بنیادی سوال آج بھی وہی ہے”ہمارے حصے کے ترقیاتی فنڈز کہاں خرچ ہوئے اور ان سے ہماری زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے؟”

اپنا تبصرہ لکھیں