پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان اور ویٹو کے اختیار میں توسیع کی مخالفت

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان شامل کرنے اور نئے ممالک کو ویٹو کا اختیار دینے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر عدم مساوات بڑھے گی اور سلامتی کونسل کی فیصلہ سازی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ویٹو کے استعمال سے متعلق بحث کے دوران پاکستانی مشن کے کونسلر گل قیصر سروانی نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں جامع، جمہوری اور مساوی اصلاحات کا حامی ہے۔ ان کے مطابق مستقل ارکان کے درمیان سیاسی اختلافات اور مخصوص مفادات عالمی امن و سلامتی سے متعلق فیصلوں میں بار بار رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ اسلام آباد ویٹو کے اختیار کے مکمل خاتمے کا حامی ہے، تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد ہونی چاہییں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستیں قائم کرنے کے بجائے منتخب ارکان کی نمائندگی اور کردار مضبوط بنایا جائے۔

پاکستان نے جنرل اسمبلی کی قرارداد 76/262 کی بھی حمایت کی، جس کے تحت سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال ہونے کے بعد جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کی جاتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ویٹو کے استعمال پر جواب دہی اور شفافیت بڑھانا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں