بالی ووڈ کے معروف اداکار منوج باجپائی نے اپنے بچپن اور زندگی کی مشکلات کے بارے میں بار بار بات کرنے سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب پوڈکاسٹس میں شرکت نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنی جدوجہد کی کہانی دہراتے دہراتے تھک چکے ہیں۔
منوج باجپائی نے ممبئی میں انڈین فلم پروجیکٹ فیسٹیول کے دوران کہا کہ انہیں اپنے بچپن سے نفرت ہونے لگی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ان کی پیدائش گاؤں میں کیوں ہوئی اور انہیں زندگی میں اتنا طویل اور مشکل سفر کیوں طے کرنا پڑا۔
اداکار نے کہا کہ لوگ آج ان کے گاؤں سے بالی ووڈ تک پہنچنے کے سفر کو متاثر کن قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے لیے یہ وقت انتہائی مشکل تھا۔ ان کے مطابق وہ بھی چاہتے تھے کہ ان کی پیدائش دہلی میں ہوتی تاکہ ممبئی پہنچنے کے لیے اتنی مشکلات نہ اٹھانا پڑتیں۔
منوج باجپائی نے بتایا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث انہیں ایک بس سے دوسری بس میں سفر کرنا پڑتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت میں چند دن گزارنے کے بعد ہی زندگی کی مشکلات کا اندازہ ہو جاتا ہے اور جدوجہد سے وابستہ تمام رومانوی تصورات ختم ہو جاتے ہیں۔
منوج باجپائی کا تعلق بھارتی ریاست بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے کسان خاندان سے ہے، جہاں انہوں نے بچپن میں مالی مشکلات کا سامنا کیا۔ وہ ان دنوں نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی اپنی نئی فلم گجب رات (Gajab Raat) کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ فلم کا ابتدائی نام گھوس خور پنڈت تھا، جس پر تنازع پیدا ہونے کے بعد اسے تبدیل کر دیا گیا۔