پاکستان اور ازبکستان کے درمیان فضائی رابطوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور 26 اکتوبر 2026 سے دونوں ممالک کے درمیان ہفتہ وار براہِ راست پروازوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو جائے گی۔ پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختایوف کے مطابق، صرف 23 ماہ کے دوران دونوں ممالک کے فضائی روابط میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 23 ماہ قبل پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کوئی براہِ راست پرواز نہیں تھی، جبکہ اب فضائی رابطے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی عملی مثال بن چکے ہیں۔
ازبک سفیر علی شیر تختایوف کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، نئے شیڈول کے تحت تاشقند اور لاہور کے درمیان ہفتے میں 4، تاشقند اور اسلام آباد کے درمیان 3، جبکہ تاشقند اور کراچی کے درمیان 2 براہِ راست پروازیں چلائی جائیں گی۔ اس طرح پاکستان کے تین بڑے شہروں کو ازبکستان کے دارالحکومت سے منسلک کرنے والی پروازوں کی مجموعی تعداد ہفتہ وار 9 تک پہنچ جائے گی۔ فضائی رابطوں میں اس اضافے سے کاروباری شخصیات، سیاحوں اور طلبہ کو سفر کی بہتر سہولتیں میسر آنے کی توقع ہے۔
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سیاحتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سفیر کے مطابق، 2025 میں پاکستان سے 19 ہزار سے زائد سیاحوں نے ازبکستان کا دورہ کیا، جبکہ 2026 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران پاکستانی سیاحوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ اس سے قبل ازبکستان کی سیاحتی کمیٹی نے اگست میں بتایا تھا کہ جنوری سے جولائی 2026 کے دوران 13 ہزار 95 پاکستانی سیاح ازبکستان پہنچے تھے۔ ان اعدادوشمار سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی روابط میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں کو وسعت دینے کے لیے حالیہ مہینوں میں متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ جولائی 2026 میں ازبکستان کے سفارت خانے نے اعلان کیا تھا کہ نجی فضائی کمپنی سینٹرم ایئر 3 ستمبر سے تاشقند اور کراچی کے درمیان ہفتے میں دو براہِ راست پروازیں شروع کرے گی۔ اس وقت لاہور اور اسلام آباد کے لیے مجموعی طور پر چھ ہفتہ وار پروازیں چلائی جا رہی تھیں۔ ازبکستان کی سیاحتی کمیٹی نے بھی دونوں ممالک کے درمیان فضائی سہولتوں میں توسیع کو تجارت اور سیاحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا تھا۔
ازبک سفیر علی شیر تختایوف نے فضائی رابطوں میں اضافے کو دونوں ممالک کی تزویراتی شراکت داری کا عملی نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، نئی پروازیں صرف سفری سہولت نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون میں اضافے سے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی روابط کو نئی وسعت ملے گی اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے کاروبار اور سیاحت کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔