پاکستان کی نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر جنرل سید عامر رضا نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا غلط اندازے کا ایسا جواب دیا جائے گا جو حملہ کرنے والے کے تصور اور اندازوں سے کہیں زیادہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس خطے میں جنگ یا تنازعے کی کوئی گنجائش نہیں اور پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
جنرل عامر رضا نے ہفتے کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 154ویں پی ایم اے لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں کے پار جارحانہ عزائم رکھنے والوں کے لیے ملک کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس کو مبارک باد دی اور انہیں اپنے فرائض پوری ذمہ داری سے انجام دینے کی تلقین کی۔
پاکستانی فوج کے اس اعلیٰ کمانڈر کا یہ بیان بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ دھمکی آمیز بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو کہا تھا کہ سرحد پار سے کسی نئی د-ہشت گردانہ کارروائی کی صورت میں بھارت پہلے سے زیادہ بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعے کو اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
جنرل عامر رضا نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں جنگ صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ غلط معلومات، پروپیگنڈے اور بیانیے کی جنگ بھی قومی سلامتی کے لیے اہم خطرات بن چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے مخالفین منظم انداز میں غلط معلومات پھیلا کر عوام اور مسلح افواج کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد مخالف قوتیں بالواسطہ د-ہشت گردی اور غیر روایتی جنگی طریقوں کے ذریعے پاکستان کے سماجی اتحاد اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔
عالمی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل عامر رضا نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی سیاست میں حالیہ تبدیلیوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد معاہدہ علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی مثال ہے، جبکہ مکہ معاہدہ دیرپا امن کے اسی تصور کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
جنرل عامر رضا نے فل-سطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جاری انسانی المیہ پوری دنیا کے ضمیر کے لیے ایک سنگین سوال ہے۔ انہوں نے شہریوں کو نشانہ بنانے اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان فل-سطینی عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔