73 سال بعد پاکستان کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بورڈز آف گورنرز کی سربراہی مل گئی

پاکستان کو 2027 کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے بورڈز آف گورنرز کی سربراہی کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق پاکستان 1953 کے بعد پہلی بار یہ ذمہ داری سنبھالے گا، جسے حکومت نے ملک کے لیے ایک تاریخی اعزاز قرار دیا ہے۔

وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے دوران آئندہ چیئرمین کے طور پر باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔ یہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر تک جاری رہیں گے، جن میں 191 ممالک کے 15 ہزار سے زائد نمائندے شریک ہیں۔

وزارت کے مطابق اس ذمہ داری سے پاکستان کو عالمی معاشی اور ترقیاتی امور پر ہونے والی بات چیت میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ، ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، عالمی مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دے گا۔

سالانہ اجلاس کے بعد احد خان چیمہ کو عالمی بینک گروپ کے حکام نے نئی ذمہ داریوں سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے عالمی بینک کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکرٹری ارادھنا کمار کپور سے ملاقات میں ادارہ جاتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ بورڈز آف گورنرز کے موجودہ چیئرمین اور پیراگوئے کے مرکزی بینک کے گورنر کارلوس کاروالو اسپالڈنگ سے بھی ملاقات کی، جس میں آئندہ سال کی ترجیحات پر گفتگو ہوئی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں عالمی بینک گروپ کے صدر اجے بنگا سے ملاقات کی۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ ملاقات تھائی لینڈ کے وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے عشائیے کے موقع پر ہوئی۔ وزیر خزانہ سالانہ اجلاس کے دوران عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں، مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی پروگرام کے تحت معاشی تعاون حاصل کر رہا ہے۔ رواں ماہ دونوں پروگراموں کے جائزوں کے بعد عملے کی سطح پر معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت متعلقہ منظوریوں کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مزید مالی معاونت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بورڈز آف گورنرز کی سربراہی سنبھالنا عالمی معاشی اور ترقیاتی مذاکرات میں اس کی نمائندگی کے لیے اہم موقع ہوگا۔ تاہم یہ ذمہ داری دونوں اداروں کی انتظامی سربراہی سے مختلف ہے اور اس کا تعلق رکن ممالک کے گورنرز کے بورڈز کی صدارت سے ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں