تاشقند میں ٹیکنالوجی ڈپلومیسی سمپوزیم، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی میں علاقائی تعاون پر غور

ٹیکنالوجی اب صرف ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کا بھی اہم حصہ بنتی جا رہی ہے، اور اسی تناظر میں ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ٹیک ڈپلومیسی ایشیا سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، جہاں ایشیائی ممالک کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔

ازبکستان کی وزارتِ خارجہ نے ٹیک ڈپلومیسی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے اس سمپوزیم کا اہتمام اسلامی تہذیب کے مرکز میں کیا۔ اجلاس میں وسطی ایشیا اور ایشیا پیسیفک خطے کے سرکاری اداروں، سفارتی مشنز، بین الاقوامی تنظیموں، ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبوں، جامعات اور سائنسی حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

گفتگو کا اہم موضوع یکم نومبر 2025 کو یونیسکو کی جنرل کانفرنس کے 43ویں اجلاس میں منظور ہونے والے سمرقند اعلامیے پر عمل درآمد تھا۔ شرکا نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں علاقائی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا، جبکہ ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سمپوزیم میں پاکستان سمیت آذربائیجان، افغانستان، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، سعودی عرب، روس، جاپان، بھارت، قازقستان اور دیگر ممالک کے سفیروں اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ ازبکستان، قازقستان، آذربائیجان، منگولیا اور مراکش کے متعلقہ اداروں، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، بینکاری و ٹیکنالوجی کے شعبوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نمائندے بھی مباحثے میں شریک ہوئے۔

یہ سمپوزیم ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تحفظ اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق معاملات عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ اجلاس کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ تعاون کے لیے ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں