ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کا آذربائیجان کا ورکنگ وزٹ مکمل ہوگیا، جس کے دوران ایشیا میں اعتماد سازی، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون پر زور دیا گیا۔
دورے کے پہلے روز صدر شوکت مرزیایوف نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح پر طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور اتحادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
15 اکتوبر کو باکو میں ایشیا میں تعامل اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس کے ساتویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ازبک صدر نے ایشیا میں اعتماد سازی کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا تصور پیش کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے ٹیکنالوجی پر اعتماد اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق ایشیائی اقدام بھی پیش کیا، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔
اجلاس کے موقع پر شوکت مرزیایوف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، لاؤس کے صدر تھونگلون سیسولیتھ، کمبوڈیا کے وزیراعظم ہن مانیٹ اور ویتنام کی نائب صدر وو تھی انہ سوان سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ سربراہی اجلاس میں شریک دیگر وفود کے سربراہان سے بھی مذاکرات کیے گئے۔
دورے کے اختتام پر صدر شوکت مرزیایوف باکو کے حیدر علییف انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تاشقند روانہ ہوگئے، جہاں انہیں آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفایف اور دیگر حکام نے رخصت کیا۔