اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ فطرت کے خلاف جنگ اب تک ختم نہیں ہوئی۔ جمعرات کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں انہوں نے ایک عالمی رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق دنیا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق اپنے وعدوں پر پوری طرح عمل نہیں کر پا رہی۔
تقریباً 200 ممالک چار سال پہلے تاریخی “پیرس معاہدہ برائے فطرت” کا حصہ بنے تھے۔ اس معاہدے میں 2030 تک قدرتی ماحول کی تباہی روکنے اور اسے بحال کرنے کے لیے 23 اہداف مقرر کیے گئے تھے۔ ان میں آلودگی میں کمی، خطرے سے دوچار جانداروں کا تحفظ اور دنیا کی 30 فیصد زمین اور سمندروں کو محفوظ بنانا شامل ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ان میں سے کئی اہداف مقررہ رفتار سے پیچھے چل رہے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو میں انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ سب کچھ مایوس کن نہیں، پیش رفت ہوئی ہے، لیکن وہ کافی نہیں اور دنیا اب بھی اس سطح سے بہت دور ہے جہاں اسے ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیش رفت کے کئی اہم پہلو تاحال عملی طور پر موجود ہی نہیں۔
آئندہ ہفتے یریوان میں اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع سے متعلق COP17 مذاکرات کا آغاز پیر سے ہو رہا ہے، جہاں مختلف ممالک 2030 کے ہدف کی جانب اب تک کی پیش رفت اور رکاوٹوں کا جائزہ لیں گے۔