بینائی سے محروم افراد کے لیے ایک نئی سائنسی تحقیق میں امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ سائنس دانوں نے جین تھراپی اور خصوصی عینک کے ذریعے ایسے مریضوں کی بصری صلاحیت بہتر بنانے کا تجربہ کیا ہے جو ریٹینائٹس پگمنٹوسا نامی موروثی بیماری کے باعث شدید حد تک بینائی کھو چکے تھے۔ تجربے میں شامل 10 مریضوں میں سے 7 کی روشنی محسوس کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی، جبکہ 6 مریض اشیا کی موجودگی اور ان کے مقام کا اندازہ لگانے کے قابل ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ تحقیق مصنوعی طور پر روشنی کے ذریعے اعصابی خلیوں کو متحرک کرنے کی تکنیک ’آپٹوجینیٹکس‘ پر مبنی ہے، جس سے متعلق سائنسی کام پر رواں ہفتے تین محققین کو طب کا نوبیل انعام دیا گیا ہے۔ اس طریقے میں مریض کی ایک آنکھ میں جین تھراپی کا انجیکشن لگایا گیا، جس کے ذریعے ریٹینا کے باقی رہ جانے والے مخصوص اعصابی خلیوں کو ’کرمسن آر‘ نامی روشنی سے حساس پروٹین بنانے کی ہدایات فراہم کی گئیں۔ اس کا مقصد ان خلیوں کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ مخصوص روشنی کے سگنلز پر ردعمل ظاہر کر سکیں۔
علاج کے اگلے مرحلے میں مریضوں کو خصوصی عینک پہنائی گئی، جو سامنے موجود اشیا کی بصری معلومات حاصل کرکے انہیں مخصوص روشنی کے نمونوں میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ روشنی آنکھ میں موجود تبدیل شدہ خلیوں تک پہنچتی ہے، جہاں سے بصری معلومات دماغ تک منتقل ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ تجربے کے دوران بعض مریض اس قابل ہوئے کہ وہ سامنے کسی شے کی موجودگی محسوس کر سکیں، اس کی جگہ کا اندازہ لگائیں اور اس کی طرف درست انداز میں ہاتھ بڑھا سکیں۔ تاہم یہ نتائج مکمل یا معمول کی بینائی واپس آنے کے مترادف نہیں ہیں۔
سائنسی جریدے ’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘ میں شائع نتائج کے مطابق 10 مریضوں میں سے 6 میں طبی اعتبار سے اہم بہتری ریکارڈ کی گئی۔ تحقیق کے دوران ایک مریض میں انجیکشن لگنے کے فوراً بعد ایک سنگین نوعیت کا منفی ردعمل سامنے آیا، تاہم وہ چند منٹ میں ختم ہو گیا۔ یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے ڈاکٹر خوسے الین ساحل، جنہوں نے تحقیق کی قیادت کی، کے مطابق شدید بینائی سے محرومی کے باوجود انسانی بصری نظام نئی معلومات پر ردعمل ظاہر کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت رکھتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریٹینا کے بعض زندہ بچ جانے والے خلیوں کو دوبارہ روشنی کے لیے حساس بنا کر دماغ تک بصری معلومات پہنچانے کا راستہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تحقیق میں صرف 10 مریض شامل تھے، اس لیے علاج کی افادیت، طویل مدتی نتائج اور حفاظت کی تصدیق کے لیے مزید بڑے تجربات ضروری ہیں۔ فی الحال یہ طریقہ تجرباتی علاج ہے، لیکن اس سے مستقبل میں بعض اقسام کی شدید بینائی سے محرومی کے علاج کے نئے امکانات سامنے آ سکتے ہیں۔