پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم مکمل، 2 کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے

پاکستان میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی انسدادِ پولیو مہم کے دوران 113 حساس اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 2 کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم کے دوران مقررہ ہدف حاصل کر لیا گیا، تاہم 6 لاکھ سے زائد بچوں تک رسائی اب بھی باقی ہے۔

پاکستانی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق پولیو کے خاتمے کے قومی پروگرام کے تحت یہ مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہی۔ مہم میں 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد پولیو کارکنوں نے گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 11 اضلاع میں 90 لاکھ 70 ہزار سے زائد، سندھ کے 30 اضلاع میں ایک کروڑ 14 ہزار سے زائد اور خیبر پختونخوا کے 37 اضلاع میں 72 لاکھ 10 ہزار سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے۔

بلوچستان کے 32 اضلاع میں 23 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ اسلام آباد میں 4 لاکھ 43 ہزار سے زائد جبکہ گلگت بلتستان کے دو اضلاع میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی گئی۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم کے دوران ابتدائی طور پر رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی کی کوششیں کی گئیں، جن کے نتیجے میں ایسے 86 فیصد بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ تاہم مجموعی ہدف کے 2.1 فیصد، یعنی 6 لاکھ 27 ہزار 776 بچے اب بھی رہ گئے ہیں، جن تک پہنچنے کے لیے مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔

مہم میں خاص طور پر ان بچوں پر توجہ دی گئی جو پہلے کبھی پولیو ویکسین نہیں لے سکے تھے یا گزشتہ مہمات میں رہ گئے تھے۔ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادیوں کو بھی ترجیح دی گئی۔

حکام کے مطابق یہ انسدادِ پولیو مہم افغانستان میں ہونے والی ویکسینیشن مہم کے ساتھ بیک وقت چلائی گئی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پولیو وائرس کی سرحد پار منتقلی کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے بتایا کہ پاکستان میں 1990 کی دہائی کے آغاز میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی سالانہ تعداد تقریباً 20 ہزار تھی، جو 2025 میں کم ہو کر 31 رہ گئی۔ رواں سال 2026 میں اب تک پولیو کے چھ کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے چار کا تعلق جنوبی خیبر پختونخوا سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں سکیورٹی مسائل کے باعث پولیو ٹیموں کو بچوں تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔ اسی طرح سکیورٹی اہلکاروں کی دیگر ضروری ذمہ داریوں کے باعث ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں مہم مؤخر کر دی گئی، جو بعد میں منعقد کی جائے گی۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے پولیو کارکنوں، والدین، مقامی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں