دنیا میں 17 کروڑ بچے اور نوعمر موٹاپے کا شکار، عالمی ادارۂ صحت کی نئی ہدایات جاری

عالمی ادارۂ صحت نے بچوں اور نوعمروں میں تیزی سے بڑھتے موٹاپے سے نمٹنے کے لیے پہلی مرتبہ عالمی ہدایات جاری کرتے ہوئے صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمی اور رویوں میں پائیدار تبدیلی کو علاج کی بنیاد قرار دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ بچوں میں موٹاپے کے علاج کے لیے وزن کم کرنے والی ادویات یا سرجری کو پہلا طریقۂ علاج نہیں ہونا چاہیے بلکہ ابتدا منظم خوراک، جسمانی سرگرمی اور رویوں میں تبدیلی سے کی جانی چاہیے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں 5 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 17 کروڑ بچے اور نوعمر موٹاپے کا شکار تھے۔ ان میں تقریباً سات کروڑ بچے 5 سے 9 سال جبکہ 10 کروڑ نوعمر 10 سے 19 سال کی عمر کے تھے۔ 1990 کے بعد اس عمر کے گروپ میں موٹاپے کی شرح 2 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد ہو چکی ہے۔

نئی ہدایات میں صفر سے 9 سال کی عمر کے بچوں کے لیے موٹاپے کے علاج کی ادویات، وزن کم کرنے کی سرجری یا اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والے طبی آلات کی سفارش نہیں کی گئی۔ اس عمر کے بچوں کے لیے خوراک میں بہتری، جسمانی سرگرمی اور رویوں میں تبدیلی پر مبنی منظم علاج کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے۔

10 سے 19 سال کی عمر کے نوعمروں کے لیے منظور شدہ ادویات پر صرف اس صورت میں غور کیا جا سکتا ہے جب ماہرین کی نگرانی میں خوراک، جسمانی سرگرمی اور رویوں میں تبدیلی پر مشتمل علاج سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں۔ شدید موٹاپے کے شکار نوعمروں میں بھی مخصوص اور سخت شرائط کے تحت وزن کم کرنے کی سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ موٹاپا ایک دائمی بیماری ہے جس کے اثرات کم عمری ہی سے شروع ہو سکتے ہیں۔ یہ آگے چل کر ذیابیطس کی دوسری قسم اور دل و خون کی شریانوں کی بیماریوں سمیت مختلف غیر متعدی امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ موٹاپے کا شکار بچوں کو سماجی بدنامی، امتیازی سلوک اور سکول میں تضحیک جیسے مسائل کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے شعبۂ غذائیت اور خوراک کے تحفظ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر لوز ماریا ڈی ریگل کے مطابق بچوں اور نوعمروں میں موٹاپے کے علاج کی بنیاد ادویات یا سرجری نہیں بلکہ ایسا جامع تعاون ہونا چاہیے جو انہیں صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمی اور طویل مدت تک برقرار رہنے والی مثبت عادات اپنانے میں مدد دے۔

اپنا تبصرہ لکھیں