ایپل نے کمپنی کے اخراجات اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ملازمتوں میں ممکنہ کمی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ نئی قیادت کمپنی کے روایتی طریقۂ کار میں تیزی سے تبدیلیاں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔
بلوم برگ کے صحافی مارک گرومین کے مطابق نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنَس ایپل میں فیصلہ سازی کو تیز، تنظیمی ڈھانچے کو کم پیچیدہ اور مختلف شعبوں کے درمیان موجود انتظامی سطحوں کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔
ہارڈویئر انجینئرنگ کے سابق سربراہ ٹرنَس کا خیال ہے کہ ایپل کو مصنوعات کی تیاری اور لانچ کے عمل میں زیادہ تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کو سال میں مخصوص موسموں تک مصنوعات کی رونمائی محدود رکھنے کے بجائے زیادہ تجرباتی انداز اپنانا چاہیے۔
ایپل عام طور پر اپنی بڑی مصنوعات موسمِ بہار اور خزاں میں متعارف کراتا ہے، تاہم نئی حکمت عملی مستقبل میں مصنوعات کی لانچ ٹائمنگ پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ کمپنی رواں سال نئے او ایل ای ڈی آئی پیڈ منی، کیمروں سے لیس ایئر پوڈز، ہوم پوڈ منی 2 اور ایپل ٹی وی 4K سمیت متعدد مصنوعات متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جن میں سے بیشتر کی رونمائی آئندہ ماہ متوقع ہے۔
کمپنی کے اندرونی ماحول سے واقف ذرائع نے مارک گرومین کو بتایا کہ ایپل میں اس وقت معمول کے مقابلے میں کام کا انداز زیادہ براہِ راست اور مصروف ہے اور مختلف سطحوں پر تبدیلیاں جاری ہیں۔
گرومین کے مطابق ٹرنَس کئی برسوں سے نسبتاً مختصر اور کم پیچیدہ تنظیمی ڈھانچے کے حامی رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کمپنی کے ملازمین کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر نئی بھرتیوں کی رفتار بھی کم کی جانی چاہیے۔
اس پالیسی کے اثرات عملی طور پر بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایپل نے متعدد انجینئرنگ پروگرام مینیجرز کو ملازمت سے فارغ کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض سینئر ملازمین اور پروگرام مینیجرز کو کمپنی کے اندر نئی ذمہ داریاں تلاش کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں متبادل عہدہ حاصل نہ کرنے والے ملازمین کو رواں سال کے آخر میں ملازمت سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔
ایپل دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طرح مصنوعی ذہانت کو بعض ملازمتوں کی جگہ استعمال کرنے اور اخراجات کم کرنے کے امکانات بھی دیکھ رہی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی میں مزید ملازمتوں میں کمی رواں سال کے اختتام یا آئندہ سال کے آغاز میں متوقع ہے، جبکہ نئی انتظامی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایپل کے بڑھتے ہوئے حجم کے باوجود فیصلہ سازی اور مصنوعات کی تیاری کے عمل کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانا ہے۔