افغانستان میں 100 بستروں پر مشتمل خیراتی کینسر ہسپتال کے قیام کی منظوری، غریب مریضوں کے علاج پر خصوصی توجہ

افغانستان کے ایوانِ تجارت و سرمایہ کاری نے کینسر کے مریضوں کے لیے 100 بستروں پر مشتمل خصوصی خیراتی ہسپتال قائم کرنے کی تجویز منظور کرلی ہے۔ منصوبے کا مقصد خصوصاً غریب اور ضرورت مند مریضوں کو کینسر کی تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

افغان خبر رساں ادارے پژواک کے مطابق اس منصوبے کی منظوری ایوانِ تجارت و سرمایہ کاری کی انتظامی کمیٹی کے 14ویں اجلاس میں اکثریتی ووٹ سے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت ایوان کے صدر سید کریم ہاشمی نے کی جبکہ نائب صدور، انتظامیہ کے ارکان اور متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

سید کریم ہاشمی نے کہا کہ افغانستان میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے بھاری اخراجات کی وجہ سے بہت سے خاندان شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مجوزہ ہسپتال کسی ایک شخص یا ادارے کا منصوبہ نہیں ہوگا بلکہ اسے ایک قومی اور انسانی خدمت کے منصوبے کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے قیام میں تاجروں، سرمایہ کاروں، مخیر افراد اور عام شہریوں کو بھی شریک کیا جائے گا، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں ہسپتال میں 100 بستر ہوں گے، تاہم مستقبل میں اس کی گنجائش اور طبی سہولیات بڑھانے کا منصوبہ بھی موجود ہے۔

ایوانِ تجارت و سرمایہ کاری نے ہسپتال کے لیے زمین، عمارت کے نقشے، طبی آلات، کینسر کے مختلف علاج کے شعبوں، اخراجات، مالی وسائل اور انتظامی نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی فنی کمیٹی بنانے کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ کمیٹی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرے گی۔

سید کریم ہاشمی نے افغان تاجروں، سرمایہ کاروں اور مخیر افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس خیراتی ہسپتال کی تعمیر اور مالی معاونت میں حصہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی 100 بستروں کا ہسپتال اس منصوبے کا پہلا مرحلہ ہوگا اور اسے مستقبل میں افغانستان میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے ایک معیاری مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں