پاکستان میں ڈینگی کیسز 11 سال میں 3 ہزار فیصد سے زیادہ بڑھ گئے

پاکستان میں ڈینگی کے کیسز میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران بہت بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کی قیادت میں ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق ملک میں ڈینگی کے اندازاً کیسز 2012 میں ایک لاکھ تھے، جو 2022 میں بڑھ کر 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئے۔

یہ تحقیق بین الاقوامی سائنسی جریدے ’پلوس ون‘ میں شائع ہوئی ہے۔ محققین نے جنوری 2012 سے دسمبر 2022 تک لیبارٹری سے تصدیق شدہ ڈینگی کیسز کا جائزہ لیا، جبکہ مختلف علاقوں میں ٹیسٹنگ اور علاج کے لیے رجوع کرنے کی شرح کو بھی شامل کیا گیا، تاکہ پاکستان میں ڈینگی کے اصل پھیلاؤ کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔

تحقیق کے مطابق 2022 میں سندھ ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ رہا، جہاں اندازاً 26 لاکھ 30 ہزار کیسز سامنے آئے۔ سندھ میں ڈینگی کی شرح تقریباً 45.6 کیسز فی ایک ہزار افراد رہی، جو ملک کے دیگر علاقوں سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔

عمر کے لحاظ سے 15 سے 49 سال کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ 2022 میں اس عمر کے گروپ میں ڈینگی کے اندازاً 16 لاکھ کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ تحقیق میں مردوں میں خواتین کے مقابلے میں ڈینگی کی شرح زیادہ دیکھی گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈینگی اب صرف چند مہینوں تک محدود موسمی بیماری نہیں رہی بلکہ سال کے دوسرے حصوں میں بھی اس کی موجودگی سامنے آ رہی ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، صفائی کے مسائل اور مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم عوامل سمجھے جا رہے ہیں۔

تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ ڈینگی کے بڑھتے خطرے سے نمٹنے کے لیے نگرانی کا نظام بہتر بنایا جائے، زیادہ متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور مچھروں کی افزائش روکنے کے اقدامات مزید مؤثر کیے جائیں۔ ماہرین کے مطابق بہتر ڈیٹا، بروقت تشخیص اور مسلسل احتیاط ڈینگی سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں