سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کی تنخواہ میں 60 فیصد سے زائد اضافہ، دنیا کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے سیاسی رہنما برقرار

سنگاپور کی حکومت نے وزیراعظم سمیت وزرا اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم لارنس وونگ کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سنگاپور ڈالر سے بڑھ کر 36 لاکھ سنگاپور ڈالر، یعنی تقریباً 28 لاکھ امریکی ڈالر ہو جائے گی۔

لارنس وونگ نے کہا ہے کہ وہ تنخواہ میں ہونے والے اضافے کی رقم آئندہ پانچ سال تک خیراتی کاموں کے لیے عطیہ کریں گے۔ ان کے مطابق وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ اس لیے ضروری ہے تاکہ کاروبار، سرکاری اداروں اور دیگر شعبوں سے قابل افراد کو سیاست میں آنے کے لیے راغب کیا جا سکے۔

سنگاپور کی حکومت پہلے بھی مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ وزرا کو زیادہ تنخواہیں دینے سے بدعنوانی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بہتر مالی پیکیج کی وجہ سے اعلیٰ عہدوں پر اہل افراد کو لانا آسان ہوتا ہے اور رشوت یا مالی دباؤ کا خطرہ کم رہتا ہے۔

نئے نظام کے تحت عام وزرا کی بنیادی سالانہ تنخواہ تقریباً 11 لاکھ سنگاپور ڈالر سے بڑھ کر 12 لاکھ سنگاپور ڈالر ہو جائے گی۔ تاہم کارکردگی کی بنیاد پر یہ رقم موجودہ حکومتی مدت کے اختتام تک تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار سنگاپور ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ تنخواہ کے ایک حصے کا تعلق بے روزگاری، آمدنی میں اضافے اور معاشی ترقی جیسے اہداف سے بھی ہوگا۔

لارنس وونگ پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے سیاسی رہنماؤں میں سرفہرست ہیں۔ نئی تنخواہ کے بعد ان کا سالانہ پیکیج 60 فیصد سے زیادہ بڑھ جائے گا۔ اس کے مقابلے میں ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی تقریباً 7 لاکھ 19 ہزار ڈالر، سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلین تقریباً 6 لاکھ 6 ہزار ڈالر جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سالانہ 4 لاکھ ڈالر وصول کرتے ہیں۔

سنگاپور میں اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ مناسب نہیں جب عوام مہنگائی، روزگار کے تحفظ اور ملازمتوں کے حوالے سے پریشان ہیں۔ سنگاپور میں اوسط ماہانہ آمدنی کے مقابلے میں وزرا کی تنخواہیں پہلے ہی کئی گنا زیادہ ہیں۔

لارنس وونگ نے اس تنقید کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وزرا کی تنخواہیں عام شہریوں کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں، تاہم ان کے مطابق حکومت کو قابل افراد کو سیاست میں لانے کے لیے مالی رکاوٹ بہت زیادہ نہیں رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام سے مستقبل کے وزرائے اعظم کو مضبوط اور باصلاحیت ٹیم بنانے میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں