کینیا میں نیدرلینڈز کے طلبہ کی تیار کردہ شمسی توانائی سے چلنے والی جدید ایمبولینس کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس گاڑی کو تیار کرنے والی ٹیم اسے دنیا کی پہلی سولر پاورڈ ایمبولینس قرار دے رہی ہے۔ ’اسٹیلا جووا‘ نامی اس ایمبولینس کی چھت پر سولر پینلز نصب ہیں، جو گاڑی اور اس میں موجود طبی آلات کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایمبولینس میں ٹی بی کی تشخیص کے لیے ٹیسٹنگ کٹس، ویکسین محفوظ رکھنے کے لیے ٹھنڈا ذخیرہ، ایکسرے مشین اور الٹراساؤنڈ اسکینر بھی موجود ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات براہِ راست مریضوں تک پہنچانا ہے۔
یہ ایمبولینس خاص طور پر ان علاقوں کے لیے تیار کی گئی ہے جہاں ہسپتال کم ہیں اور زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات محدود ہیں۔ منصوبے میں امریف ہیلتھ افریقہ بھی شریک ہے، جو خواتین اور بچوں کی صحت کے شعبے میں کام کرتی ہے۔
دو نشستوں والی یہ ایمبولینس دشوار گزار اور کچی سڑکوں پر بھی چل سکتی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ دھوپ والے دن اس کی رینج تقریباً 715 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے، جبکہ سولر چارجڈ بیٹری کی بدولت گاڑی اور اس کے طبی آلات رات یا ابر آلود موسم میں بھی کام کر سکتے ہیں۔
ٹیم کی رکن ازابیلا واننگن کے مطابق کینیا میں آزمائشی سفر کے دوران ایمبولینس نے 800 کلومیٹر سے زیادہ سفر کیا اور اسے آف روڈ حالات کے ساتھ عملی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی آزمایا گیا۔ ان کے مطابق ابتدائی آزمائش کامیاب رہی ہے۔
اس منصوبے کو مکمل کرنے میں تقریباً ایک سال لگا اور ٹیم کے کئی ارکان نے اس پر کام کرنے کے لیے اپنی تعلیم عارضی طور پر روک دی۔ منصوبے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ پائیدار توانائی کو استعمال کرتے ہوئے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کا ایک عملی ماڈل پیش کرنا چاہتے ہیں۔
اگر یہ منصوبہ بڑے پیمانے پر کامیاب رہتا ہے تو شمسی توانائی سے چلنے والی ایسی ایمبولینسیں ان علاقوں میں خاص اہمیت حاصل کر سکتی ہیں جہاں بجلی، ایندھن اور طبی سہولیات کی دستیابی محدود ہے۔