ازبک صدر شوکت مرزائیوف اور روسی صدر پوتن کی کرغزستان میں ملاقات، اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے 31 اگست کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری اور اتحادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات صدر مرزائیوف کے کرغزستان کے ورکنگ دورے کے دوران ہوئی۔

ازبک صدارتی پریس سروس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت اور اقتصادی تعاون میں جاری مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ رواں سال کے آغاز سے ازبکستان اور روس کے درمیان باہمی تجارت میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملاقات میں صنعت، توانائی، دھات سازی، ٹرانسپورٹ اور معیشت کے دیگر ترجیحی شعبوں میں جاری بڑے مشترکہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک نے ان منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور صنعتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر شوکت مرزائیوف اور صدر ولادیمیر پوتن نے دوطرفہ تجارت کی موجودہ رفتار برقرار رکھنے اور نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کے لیے کاروباری اور صنعتی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ازبکستان اور روس کے مختلف علاقوں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے کو بھی اہم قرار دیا۔ علاقائی سطح پر کاروبار، سرمایہ کاری اور دیگر مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔

ملاقات میں ثقافتی اور انسانی روابط کو مزید وسعت دینے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک نے تعلیم، ثقافت اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

مرزائیوف اور پوتن نے آئندہ ہونے والے دوطرفہ اور کثیرالجہتی اجلاسوں اور اعلیٰ سطحی رابطوں کے شیڈول پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور ازبکستان روس تعلقات میں موجود مثبت رفتار کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں