وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی خطے کی زندگی اور مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اسے کسی ملک کے خلاف دباؤ یا سیاسی فائدے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ پانی سے متعلق معاہدے پابند بین الاقوامی ذمہ داریاں ہیں، جنہیں سیاسی مصلحت کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ان پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے علاقائی امن کو ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کو خطے کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے افغانستان میں امن و استحکام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال جاری رہنے کی صورت میں خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہوگا۔
شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے 2026-27 کے لیے SCO کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے کے حوالے سے بھی ترجیحات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صدارت کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، غربت میں کمی، قدرتی آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیلوں سمیت اہم شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ پاکستان نے SCO ممالک کے لیے خودمختار مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور گورننس کا مشترکہ فریم ورک قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
وزیراعظم نے علاقائی رابطوں کو معاشی خوشحالی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کے لیے ایک اہم راستہ فراہم کرتی ہے۔ پاکستان بین العلاقائی ریلوے، سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے SCO ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کو بھی تنظیم کی 2035 تک کی ترقیاتی حکمت عملی کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے ایران سے متعلق علاقائی بحران اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا اور جون میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو خطے میں دیرپا امن کی جانب اہم راستہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مکہ دفاعی اتحاد کے بارے میں بھی واضح کیا کہ یہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام سمیت تمام مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنے وعدوں کو پورا کیا جائے۔