انگلینڈ کی پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری، قومی ٹیم چاروں اننگز میں 200 رنز بھی نہ بنا سکی

انگلینڈ نے لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی۔ پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہدف ملا تھا، لیکن قومی ٹیم چوتھے روز 194 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ اس سے قبل پہلے ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان کی بیٹنگ پوری سیریز میں مسلسل ناکام رہی۔ قومی ٹیم ابھی تک کسی اننگز میں 200 رنز کا ہندسہ عبور نہیں کر سکی۔ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان 171 اور 135 رنز پر آؤٹ ہوا تھا، جبکہ لارڈز میں پہلی اننگز میں صرف 110 اور دوسری میں 194 رنز بنا سکا۔

دوسری اننگز میں سعود شکیل نے 97 رنز بنا کر پاکستان کی جانب سے سب سے نمایاں مزاحمت کی۔ وہ اس وقت کریز پر آئے جب پاکستان 14 رنز پر تین وکٹیں گنوا چکا تھا۔ سعود شکیل نے جارحانہ اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کی، لیکن تین رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کر سکے۔ کپتان بابر اعظم نے بھی ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہلی اننگز میں بیٹنگ معیار کے مطابق نہیں تھی، تاہم سعود شکیل نے دوسری اننگز میں اپنی صلاحیت دکھائی۔

انگلینڈ کے فاسٹ بولر اولی رابنسن پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوئے۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 13 اوورز میں صرف 11 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ مجموعی طور پر میچ میں 35 رنز کے عوض آٹھ وکٹیں لے کر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ رواں سیزن کے تین ٹیسٹ میں رابنسن اب تک 23 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

لارڈز کی پچ بھی اس میچ کے بعد تنقید کی زد میں آ گئی۔ انگلینڈ کے اوپنر ایمیلیو گے ایک ایسی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے جو غیر متوقع طور پر بہت نیچی رہی۔ اس غیر مساوی باؤنس نے پچ کے معیار پر سوالات کھڑے کر دیے، خاص طور پر اس لیے کہ لارڈز کی گزشتہ ٹیسٹ پچ کو بھی آئی سی سی نے غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

میریلیبون کرکٹ کلب، جو لارڈز گراؤنڈ کا انتظام چلاتا ہے، پہلے ہی پچوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین کی کمیٹی اور مرحلہ وار پچ کی ازسرنو تیاری کے پروگرام کا اعلان کر چکا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ خدشات برقرار ہیں کہ لارڈز کی پچ پر غیر مساوی باؤنس مستقبل کے میچوں میں بھی مسئلہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کی مسلسل بیٹنگ ناکامی، اولی رابنسن کی شاندار بولنگ اور لارڈز کی پچ سے متعلق خدشات اس سیریز کے نمایاں پہلو بن کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان اب تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں کم از کم سیریز وائٹ واش سے بچنے کی کوشش کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں