اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایلون مسک کی اسپیس ایکس کی ملکیت بننے والی کوڈنگ کمپنی کرسر کو اپنے مصنوعی ذہانت ماڈلز کی فراہمی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی نے 12 نومبر 2026 کو مجوزہ آخری تاریخ مقرر کی ہے، جس کے بعد کرسر کو مستقبل کے اوپن اے آئی ماڈلز تک رسائی نہیں دی جائے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین اور ایلون مسک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کو مزید شدت دے سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان اختلافات پہلے ہی قانونی جنگ تک پہنچ چکے ہیں، جس میں مسک نے اوپن اے آئی کے خلاف 150 ارب ڈالر کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔
اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے اس بات پر اعتماد نہیں کہ اسپیس ایکس اس کی ٹیکنالوجی کو کمپنی کی شرائط کے مطابق استعمال کرے گی۔ اوپن اے آئی نے اس فیصلے کی وجہ ایلون مسک کی کمپنیوں کے ساتھ ماضی کے معاہداتی تنازعات کو قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق کرسر کے ساتھ موجود معاہدے میں ملکیت کی تبدیلی کے بعد اسے محدود مدت کے اندر معاہدہ ختم کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس فیصلے کی کوئی پروا نہیں۔ انہوں نے سام آلٹمین اور اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر الزام لگایا کہ اوپن اے آئی اپنے اصل غیر منافع بخش مقصد سے ہٹ چکی ہے۔
دوسری جانب کرسر کے شریک بانی اور اب اسپیس ایکس کے عہدیدار مائیکل ٹروئل نے کہا ہے کہ کمپنی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اوپن اے آئی کی ٹیم کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اسی دوران اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا ہے کہ وہ کرسر میں اپنے کلاڈ ماڈلز کے لیے کمپیوٹنگ وسائل میں اضافہ کرے گی۔
اسپیس ایکس نے جون میں کرسر بنانے والی کمپنی اینی سفیئر کو 60 ارب ڈالر کے حصص پر مبنی معاہدے کے تحت خریدنے کا اعلان کیا تھا اور یہ خریداری رواں ماہ مکمل ہوئی۔ اوپن اے آئی کے تازہ فیصلے کے بعد کرسر کے صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی دستیابی اور دونوں ٹیکنالوجی گروپس کے تعلقات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔