نیپال، چین کے سیلاب میں لاپتا افراد کی تعداد بڑھ کر3 ہزار کے قریب پہنچ گئی

نیپال اور چین کے تبت سے ملحقہ ہمالیائی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتا افراد کی تعداد تقریباً 3 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک میں مجموعی طور پر 633 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیپال میں اب تک 626 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 2 ہزار 426 افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ چین کے تبت کے علاقے میں 7 افراد ہلاک اور 554 لاپتا بتائے گئے ہیں۔ بھارتی حکام نے بھی نیپال سے آنے والے دریاؤں سے 7 لاشیں برآمد کی ہیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سیلاب میں بہہ کر بھارت پہنچی ہیں۔

سیلاب سے نیپال کے نواکوٹ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بستیاں، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتا افراد میں 933 ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کرنے والے کارکن بھی شامل ہیں، جبکہ سیکڑوں غیر ملکی سیاح اور تبت کے مقدس پہاڑ کیلاش جانے والے زائرین کا بھی رابطہ منقطع ہے۔

ریڈ کراس کے مطابق اس آفت سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک اور پینے کے پانی کی قلت پیدا ہونے لگی ہے، جبکہ متعدد مقامات تک زمینی راستے تباہ ہونے کے باعث امدادی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کو سب سے بڑا خطرہ دوبارہ سیلاب آنے کا ہے۔ برف، مٹی اور ملبے کے باعث مختلف مقامات پر عارضی جھیلیں بن گئی ہیں، جن کے اچانک ٹوٹنے سے مزید سیلابی ریلے آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ نیپالی پولیس نے ایک موقع پر امدادی کارکنوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت بھی جاری کی، جبکہ چین کے تبت میں بعض علاقوں میں ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روکنا پڑا۔

نیپالی فوج ترشولی تھری اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگوں میں پھنسے افراد کی تلاش بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً 350 کارکنوں اور مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید سو سے زائد افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

سیلاب سے بچنے والے افراد کا کہنا ہے کہ پانی اور ملبے کا ریلا اتنی تیزی سے آیا کہ لوگوں کو محفوظ مقام تک پہنچنے کا موقع نہ مل سکا۔ کئی گاڑیاں اور عمارتیں بہہ گئیں، جبکہ دریا کے کنارے آباد متعدد بستیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش جاری رہنے کے باعث ہلاکتوں اور متاثرین کے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آسکتی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی کارروائیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں