ازبکستان اور سنگاپور نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے اسٹریٹجک اور جدید شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ ازبک صدر شوکت مرزائیوف نے 28 اگست کو سنگاپور کے سینئر وزیر لی شین لونگ کی قیادت میں وفد سے ملاقات کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ازبک صدارتی پریس سروس کے مطابق ملاقات کے آغاز میں لی شین لونگ نے سنگاپور کے صدر تھرمن شانموگرتنم اور وزیراعظم لارنس وونگ کی جانب سے صدر شوکت مرزائیوف کے لیے نیک خواہشات پہنچائیں۔ دونوں جانب سے ازبکستان اور سنگاپور کے درمیان سیاسی روابط، باہمی تجارت اور مشترکہ کاروباری منصوبوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ ازبکستان کی معیشت میں سنگاپور کی براہِ راست سرمایہ کاری تقریباً 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ دونوں ممالک نے ازبکستان میں سنگاپور کی کمپنیوں کی کاروباری اور سرمایہ کاری سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
مذاکرات کا ایک اہم نتیجہ اسٹریٹجک اور اختراعی شراکت داری کے لیے مشترکہ وسط مدتی پروگرام تیار کرنے پر اتفاق تھا۔ مجوزہ پروگرام میں تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرکاری انتظامی نظام کو جدید بنانے، انسانی وسائل کی ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں کو شامل کیا جائے گا۔
دونوں ممالک نے ازبکستان میں خصوصی اقتصادی زونز کے انتظام کے لیے سنگاپور کے تجربے سے استفادہ کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ تاشقند انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کی ترقی اور ڈیجیٹل بینکاری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کو مستقبل کے تعاون کے اہم شعبوں میں شامل کیا گیا۔
فریقین نے ازبکستان میں سنگاپور کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور مزید وسعت دینے کی حمایت کی۔ اعلیٰ سطح پر طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کی نگرانی اور مشترکہ منصوبوں میں ہم آہنگی کے لیے متعلقہ سیاسی اور اقتصادی اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطہ قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
ملاقات میں ازبکستان کی اقوام متحدہ کے بین الاقوامی تصفیہ معاہدوں سے متعلق کنونشن، جسے سنگاپور کنونشن آن میڈی ایشن بھی کہا جاتا ہے، میں حالیہ شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا۔ دونوں جانب سے بین الاقوامی تنظیموں میں باہمی تعاون اور وسیع تر علاقائی شراکت داری کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔