اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں سوگ اور غم کی فضا ہے، جبکہ شوبز شخصیات نے بھی واقعے پر شدید دکھ، غصے اور بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ متعدد فنکاروں نے اس سانحے کو محض ایک حادثہ نہیں بلکہ غفلت، ناقص نظام اور جواب دہی کے فقدان کا نتیجہ قرار دیا۔
اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ پاکستان میں لوگ روزانہ مختلف شکلوں میں غفلت، طاقت کے غلط استعمال، صنفی ناانصافی اور خاموشی کے باعث جان گنوا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر مزید کتنی اموات کے بعد صورتحال بدلے گی۔ ماہرہ خان نے کہا کہ حالیہ واقعات نے انہیں اندر سے توڑ دیا ہے اور وہ روزانہ خبریں دیکھ کر بے حد پریشان ہوتی ہیں۔
ماہرہ خان نے پمز سانحے کے ساتھ ملک میں حالیہ دیگر پرتشدد واقعات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ معصوم متاثرین بھی صرف ایک اور موضوع یا ہیش ٹیگ بن کر رہ جائیں گے، جبکہ اصل مسئلہ اور ذمہ داری کا تعین پس منظر میں چلا جائے گا۔
اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے خاص طور پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ غم سے نڈھال خاندانوں سے سخت یا برہمی والے انداز میں بات کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے دکھ اور شکایات متعلقہ حکام کے سامنے ہی رکھیں گے اور ذمہ دار عہدوں پر موجود افراد کو ان کی بات سننی چاہیے۔
سینئر اداکار خالد انعم نے حکام سے جواب دہی کی توقع پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کے بعد کمیٹیاں بنتی ہیں، رپورٹس جاری ہوتی ہیں اور اعلانات کیے جاتے ہیں، لیکن عملی ذمہ داری قبول کرنے کا رجحان نظر نہیں آتا۔ انہوں نے دعا کی کہ پمز سانحے کے ذمہ دار افراد کا حقیقی احتساب ہو۔
اداکارہ نائمل خاور نے بھی کہا کہ وہ حالیہ واقعات کے بعد غصے، خوف اور شدید دکھ میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ مزید کتنی ماؤں کو اپنے بچے کھونے پڑیں گے اور کتنی خواتین اور بچیوں کو تشدد کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے پمز میں نومولود بچوں کے اہل خانہ سمیت حالیہ پرتشدد واقعات سے متاثر ہونے والی تمام خواتین اور خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
شوبز شخصیات کے بیانات میں ایک مشترکہ مطالبہ سامنے آیا کہ پمز سانحے اور دیگر واقعات میں صرف افسوس اور انکوائریوں تک محدود رہنے کے بجائے حقیقی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ فنکاروں نے کہا کہ مسلسل سانحات کے بعد عوام میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ جب تک ادارہ جاتی غفلت اور جواب دہی کے نظام کو سنجیدگی سے درست نہیں کیا جاتا، ایسے واقعات بار بار ہوتے رہیں گے۔