دیر رات تک جاگنے کی عادت صحت کو کیسے نقصان پہنچاتی ہے؟

دیر رات تک جاگنا آج کل موبائل فون، سوشل میڈیا، کام کے دباؤ اور بے ترتیب معمولات کی وجہ سے عام ہو چکا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بالغ افراد کو عموماً ہر رات کم از کم سات گھنٹے معیاری نیند درکار ہوتی ہے۔ مسلسل دیر سے سونے سے جسم کی قدرتی گھڑی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں نیند کا وقت مزید بگڑ سکتا ہے۔

مختلف ریسرچز سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند کی کمی دماغ، یادداشت اور توجہ پر برا اثر ڈالتی ہے۔ اس سے نئی باتیں سیکھنے، فیصلے کرنے، مسائل حل کرنے اور روزمرہ کاموں پر توجہ برقرار رکھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ انسان چڑچڑا، بے چین اور ذہنی طور پر تھکا ہوا بھی محسوس کر سکتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مسلسل کم نیند دل اور خون کی نالیوں کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ناکافی نیند کو ہائی بلڈ پریشر، امراضِ قلب اور فالج کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ جسم کی بحالی اور مدافعتی نظام کی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

صحت کے ماہرین کے مطابق دیر تک جاگنے سے بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے زیادہ بھوک لگنے اور میٹھی یا چکنائی والی غذا کھانے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل کم نیند وزن میں اضافے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے سے بھی منسلک کی جاتی ہے۔

ہیلتھ ریسرچز کے مطابق نیند پوری نہ ہونے سے ذہنی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بے چینی، اداسی، غصہ، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی علامات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دن کے وقت غنودگی، سر درد، جسمانی کمزوری اور ردِعمل کی رفتار کم ہونے سے حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ بہتر نیند کے لیے روزانہ ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ سونے سے پہلے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کا استعمال کم کریں، رات کو چائے، کافی اور بھاری کھانے سے گریز کریں اور کمرے کو پرسکون اور تاریک رکھیں۔ اگر کئی ہفتوں تک نیند کا مسئلہ برقرار رہے، شدید خراٹے آئیں یا دن بھر غیر معمولی غنودگی محسوس ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں