اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی فہرست، اسرائیلی سفیر اور اقوامِ متحدہ کی اہلکار میں تلخ کلامی

اقوامِ متحدہ کے ایک اجلاس کے دوران اسرائیلی سفیر اور اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ اہلکار کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اجلاس جنگی تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی نمائندہ پرمیلا پیٹن سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پرمیلا پیٹن نے ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں اسرائیل کو پہلی بار مبینہ خلاف ورزیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

اسرائیلی سفیر نے رپورٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ اسرائیل کو نشانہ بنا رہا ہے۔

اس دوران اقوامِ متحدہ کی ایک اور اہلکار ونیسا فریزر نے مداخلت کرتے ہوئے اسرائیلی سفیر سے کہا کہ وہ ذاتی حملوں سے گریز کریں۔ ونیسا فریزر سیکریٹری جنرل کی نمائندہ برائے بچے اور مسلح تنازعات ہیں اور انہوں نے بھی ایک الگ رپورٹ تیار کی ہے، جس میں اسرائیل کو مبینہ خلاف ورزیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

فریزر کا کہنا تھا کہ ان کی رپورٹ تصدیق شدہ شواہد پر مبنی ہے۔

اس پر اسرائیلی سفیر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کو اسرائیل کے خلاف جانبدارانہ رپورٹس جاری نہیں کرنی چاہییں۔

اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹس میں اسرائیل کے ساتھ حماس کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

ونیسا فریزر کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ فلسطینی بچوں کے معاملے میں خلاف ورزیوں میں اضافے پر ادارے کو شدید تشویش ہے، جبکہ اسرائیلی آبادکار گروہوں کو بھی مستقبل میں عالمی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ پر جانبداری کا الزام لگایا ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کا مؤقف ہے کہ اس کی رپورٹس تصدیق شدہ معلومات پر مبنی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں