لبنان کی معروف ماہرِ بحری ماحولیات مونا خلیل انتقال کر گئیں۔ الجزیرہ کے مطابق، وہ گزشتہ ہفتے جنوبی لبنان میں صور کے قریب اپنے گھر پر اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوئی تھیں۔
77 سالہ مونا خلیل جمعہ کے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ اسی روز اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی حملوں میں اضافہ کیا، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
مونا خلیل نے اپنی زندگی کے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کو جنوبی لبنان کے ساحل پر نایاب سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے وقف کیا۔ وہ خاص طور پر لاگر ہیڈ اور گرین سی ٹرٹلز کے گھونسلوں کی حفاظت کے لیے جانی جاتی تھیں۔
1999 میں المنصوری ساحل پر ایک کچھوے کو انڈے دیتے دیکھنا ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے لبنان کے جنوبی ساحل پر سمندری حیات کے تحفظ کو اپنا مشن بنا لیا۔
2000 میں مونا خلیل نے المنصوری ساحل پر “اورنج ہاؤس” کے نام سے ایک ماحولیاتی سیاحتی منصوبہ قائم کرنے میں مدد دی۔ اس منصوبے کا مقصد ساحلی ماحول، سمندری حیات اور کچھوؤں کے گھونسلوں کی حفاظت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔
ماحولیاتی تنظیم لائیو لو صور نے اپنے بیان میں کہا کہ مونا خلیل کی زندگی بے لوث خدمت اور اثر انگیز کاموں سے بھرپور تھی، اور انہیں ان کے غیر معمولی ورثے کے ذریعے یاد رکھا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق لبنان کے جنوبی ساحل پر پائے جانے والے سمندری کچھوے ساحلی تعمیرات، پلاسٹک آلودگی، ماہی گیری کے جالوں اور روشنی کی آلودگی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
مونا خلیل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف کچھوؤں کی حفاظت نہیں کی، بلکہ لبنان کے ساحل، سمندری حیات اور قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے بھی اپنی زندگی وقف کر دی۔