پاکستان میں ریلوے کا نظام برطانوی دورِ حکومت میں قائم ہوا اور اسے برصغیر کی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ انگریزوں نے ریلوے کا جال بچھانے کا آغاز اس مقصد کے تحت کیا کہ فوجی نقل و حرکت، تجارت اور خام مال کی ترسیل کو آسان بنایا جا سکے۔ موجودہ پاکستان کے علاقوں میں پہلی اہم ریلوے لائن کراچی سے کوٹری تک تعمیر کی گئی جس نے بعد میں پورے خطے کی معاشی سرگرمیوں کو بدل کر رکھ دیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کو ایک وسیع ریلوے نیٹ ورک ملا جو مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں کو آپس میں ملاتا تھا۔ اس زمانے میں ریلوے نہ صرف عوام کے لیے سفر کا سب سے بڑا ذریعہ تھی بلکہ ملکی تجارت اور صنعت کا بھی اہم ستون سمجھی جاتی تھی۔ کراچی کی بندرگاہ سے سامان پورے ملک تک ریلوے کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا اور کسان اپنی زرعی اجناس منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ٹرینوں پر انحصار کرتے تھے۔
پاکستان ریلوے کا سنہری دور 1950ء اور 1960ء کی دہائی کو کہا جاتا ہے۔ اس دور میں ٹرینیں وقت کی پابند، آرام دہ اور محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔ “خیبر میل”، “گرین لائن” اور “تیز گام” جیسی ٹرینیں عوام میں بے حد مقبول تھیں۔ ریلوے اسٹیشن صرف سفر کے مراکز نہیں تھے بلکہ سماجی زندگی کا حصہ تھے جہاں مختلف طبقوں کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے اور ملکی ثقافت کی جھلک دیکھنے کو ملتی۔ ریلوے نے ملک کے مختلف حصوں کے درمیان فاصلے کم کیے اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔ کراچی سے پشاور تک سفر کرنے والا شخص پاکستان کی مختلف ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا مشاہدہ کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ریلوے کو ملک کی شہ رگ کہا جاتا تھا۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ریلوے کی اہمیت آج بھی بہت زیادہ ہے۔ ریلوے عام آدمی کے لیے سستا اور نسبتاً محفوظ سفری ذریعہ ہے۔ بسوں اور ہوائی جہاز کے مقابلے میں ٹرین کا کرایہ کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے متوسط اور غریب طبقہ اس پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی مقدار میں سامان کی ترسیل کے لیے بھی ریلوے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اگر ریلوے کے مال برداری کے نظام کو جدید بنایا جائے تو سڑکوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، ایندھن کی بچت ہو سکتی ہے اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ریلوے کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے ٹریفک اور فضائی آلودگی میں کمی آتی ہے۔
بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان ریلوے مسلسل زوال کا شکار رہی ہے۔ سیاسی مداخلت، بدانتظامی، کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی نے اس ادارے کو شدید نقصان پہنچایا۔ مختلف ادوار میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں جس سے ادارے پر اضافی مالی بوجھ بڑھ گیا۔ ریلوے کے ٹریک، انجن اور بوگیاں وقت کے ساتھ پرانی اور خستہ حال ہوتی گئیں مگر ان کی بروقت مرمت اور تبدیلی پر توجہ نہ دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرین حادثات میں اضافہ ہوا اور عوام کا اعتماد کم ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا جب ریلوے ملکی مال برداری کا بڑا حصہ سنبھالتی تھی، مگر اب زیادہ تر سامان ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے جس سے ریلوے کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی۔ ٹرینوں کی گھنٹوں تاخیر بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے جس کی وجہ سے لوگ متبادل ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں کئی ایسی ریلوے لائنیں بھی موجود تھیں جو اب مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں یا برسوں سے غیر فعال ہیں۔ سندھ میں کھوکھراپار سے بھارت کے علاقے موناباؤ تک جانے والی ریلوے لائن 1965ء کی جنگ کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ اگرچہ بعد میں “تھر ایکسپریس” کے ذریعے محدود بحالی کی کوشش ہوئی مگر اس روٹ کی پرانی اہمیت دوبارہ بحال نہ ہو سکی۔ بلوچستان میں ژوب ریلوے لائن بھی تاریخی اہمیت رکھتی تھی مگر اسے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح بلوچستان کے کئی دشوار گزار علاقوں میں ریلوے کی شاخیں غیر فعال ہو چکی ہیں۔ پنجاب میں نارووال اور جلالپور جٹاں کے درمیان چلنے والی لائن بھی بند ہو گئی جبکہ لاہور، شیخوپورہ اور سرگودھا کے بعض مقامی روٹس پر ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔ بہاولنگر اور فورٹ عباس کے علاقوں سے گزرنے والی تاریخی ہاکڑہ ریلوے لائن بھی کئی برسوں سے غیر فعال پڑی ہے جس کی بحالی کے مطالبات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔
آج کے دور میں پاکستان ریلوے کی بحالی نہایت ضروری ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی اور ٹریفک کے مسائل کے باعث ایک مضبوط ریلوے نظام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر حکومت جدید ٹریک، نئے انجن اور تیز رفتار ٹرینوں پر سرمایہ کاری کرے تو عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چین، جاپان اور یورپ کے ممالک نے جدید ریلوے نظام کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط بنایا ہے، پاکستان بھی اس شعبے میں ترقی کر سکتا ہے۔ بند ریلوے لائنوں کی بحالی سے دور دراز علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عوام کو سستا سفری ذریعہ میسر آئے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ریلوے کے انتظامی نظام کو سیاسی مداخلت سے پاک کرکے پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانا بھی ضروری ہے۔
پاکستان ریلوے صرف ایک سفری ادارہ نہیں بلکہ ملکی تاریخ، معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ ماضی میں اس ادارے نے قوم کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا مگر بدقسمتی سے عدم توجہی اور بدانتظامی کے باعث یہ زوال کا شکار ہو گیا۔ اگر سنجیدہ اصلاحات کی جائیں، کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور جدید خطوط پر ریلوے کو استوار کیا جائے تو یہ ادارہ دوبارہ ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک مضبوط ریلوے نظام نہ صرف معیشت کو سہارا دے گا بلکہ عوام کو محفوظ، آرام دہ اور سستا سفر بھی فراہم کرے گا۔