بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، جسے آر ایس ایس کہا جاتا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں اپنے وفود بھیج رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن یا امیج بہتر بنائی جا سکے اور ان الزامات کا جواب دیا جا سکے جن میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ملوث رہی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چند ماہ قبل امریکا کے ایک وفاقی ادارے نے اپنی رپورٹ میں آر ایس ایس پر دہائیوں سے اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
آر ایس ایس کیا ہے؟
آر ایس ایس ایک دائیں بازو کی ہندو تنظیم ہے جس کی بنیاد 1925 میں ناگپور میں رکھی گئی تھی۔ یہ تنظیم ہندوتوا نظریے کی حامی سمجھی جاتی ہے، جس کے تحت بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے بجائے ہندو ریاست بنانے کی سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے۔
یہ تنظیم خود کو ایک ‘ہندو تہذیبی اور ثقافتی تحریک’ قرار دیتی ہے اور ملک بھر میں اسکولوں، اسپتالوں، رسائل اور دیگر اداروں کے ذریعے اپنے نظریات کو پھیلانے کا کام کرتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، کئی ناقدین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ابتدائی نظریات پر یورپ کی فاشسٹ تحریکوں، خاص طور پر اٹلی کے بینیتو موسولینی اور جرمنی کے ایڈولف ہٹلر کے اثرات رہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کے مطابق، آر ایس ایس کے پرانے رہنماؤں نے ہٹلر کی پالیسیوں کی تعریف کی تھی اور وہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی اسی طرزِ فکر کو اپنانا چاہتے تھے۔
آر ایس ایس اور بھارتی حکومت کا تعلق
آر ایس ایس کو اکثر بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، یعنی بی جے پی، کی نظریاتی بنیاد کہا جاتا ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی بھی 1972 سے آر ایس ایس کے رکن رہے ہیں اور بعد میں 1987 میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔
ماہرین کے مطابق بی جے پی اور آر ایس ایس کے درمیان گہرے نظریاتی اور تنظیمی روابط موجود ہیں، جبکہ آر ایس ایس سے وابستہ ہزاروں تنظیمیں مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔
کیا بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات بڑھ رہے ہیں؟
امریکی تحقیقی ادارے ‘انڈیا ہیٹ لیب’ کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور واقعات میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ایسے واقعات بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں میں پیش آئے۔
گزشتہ برسوں میں بھارت میں مسلمانوں پر گائے کے ذبح یا گوشت کھانے کے الزامات پر ہجوم کے حملوں کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ اسی طرح عیسائی برادری کے خلاف بھی حملوں اور چرچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکی تنظیم ‘سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ’ کے سربراہ راقب حمید نائک نے الجزیرہ کو بتایا کہ بھارت میں نفرت انگیز جرائم، امتیازی قوانین اور اقلیتوں کے خلاف ریاستی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آر ایس ایس مغربی ممالک میں کیا کر رہی ہے؟
آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے نئی دہلی میں غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی میں مختلف حلقوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ تنظیم کے بارے میں ‘غلط فہمیوں’ کو دور کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ ایک نیم فوجی تنظیم ہے اور ہندو بالادستی کے نظریے کو فروغ دیتی ہے، جبکہ ان کے بقول ‘حقیقت اس سے مختلف ہے’۔
اپریل میں ہوسابالے نے برطانیہ میں چیتھم ہاؤس سمیت مختلف اداروں کے نمائندوں، اراکین پارلیمان اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے بعد انہوں نے امریکا میں بھارتی نژاد برادری اور قدامت پسند تھنک ٹینکس سے بھی رابطے کیے، جبکہ جرمنی میں پالیسی اداروں اور بھارتی کمیونٹی سے ملاقاتیں کیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس عالمی سطح پر دائیں بازو کی تنظیموں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ مہم کیوں شروع کی گئی؟
یہ سرگرمیاں اس وقت تیز ہوئیں جب امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی رپورٹ میں آر ایس ایس پر اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور تنظیم و اس کے رہنماؤں پر پابندیوں کی سفارش کی۔
ماہرین کے مطابق اگر ایسی پابندیاں نافذ ہوئیں تو آر ایس ایس کے عالمی نیٹ ورک اور بیرونِ ملک فنڈنگ پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے تنظیم اب مغربی ممالک میں اپنا مؤقف پیش کر کے ‘نقصان پر قابو پانے’ کی کوشش کر رہی ہے۔
راقب حمید نائک کے مطابق آر ایس ایس کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر عالمی سطح پر اس کی امیج مزید خراب ہوئی تو بیرونِ ملک موجود اس کے حمایتی اور مالی معاونین بھی اس سے دور ہو سکتے ہیں۔