ایئر انڈیا کو سال 26-2025 کے دوران تقریبا 2.8 ارب ڈالر کا ریکارڈ نقصان کیوں ہوا؟

ایئر انڈیا کو مالی سال 2025-26 میں دو ارب ڈالر سے زائد کے ریکارڈ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی تفصیلات شیئر ہولڈر سنگاپور ایئرلائنز کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایئر انڈیا گروپ کو 12 ماہ کے دوران 3.56 ارب سنگاپوری ڈالر، یعنی موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق تقریباً 2.8 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایئر انڈیا کو ایران جنگ، پاکستان کی جانب سے بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند کیے جانے، بین الاقوامی پروازوں میں رکاوٹوں اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا، جس سے کمپنی کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی۔

سنگاپور ایئرلائنز، جو ایئر انڈیا میں 25 فیصد حصص کی مالک ہے، نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایئر انڈیا کے لیے حالات انتہائی مشکل ہیں۔ کمپنی کے آڈیٹر کے پی ایم جی نے بھی اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ ایئر انڈیا میں سرمایہ کاری کو خطرات لاحق ہیں کیونکہ فضائی صنعت کو سپلائی چین مسائل، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی فضائی صورتحال جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔

ایئر انڈیا نے ابھی تک بھارتی ریگولیٹری اداروں کے سامنے اپنے مالی نتائج جمع نہیں کروائے، تاہم رائٹرز پہلے ہی رپورٹ کر چکا تھا کہ کمپنی کو دو ارب ڈالر سے زائد سالانہ خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

گزشتہ برس ایئر انڈیا کے علیحدہ مالیاتی خسارے کا حجم 415 ملین ڈالر تھا، جبکہ ایئر انڈیا ایکسپریس سمیت مجموعی نقصان 1.13 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اب تازہ مالی سال میں یہ خسارہ مزید بڑھ گیا ہے۔

کمپنی کو حالیہ مہینوں میں درجنوں بین الاقوامی پروازیں منسوخ یا کم کرنا پڑیں، جس سے ٹاٹا گروپ کے تحت ایئر انڈیا کی بحالی کا منصوبہ متاثر ہوا۔ دوسری جانب ایئر انڈیا کی پروازوں میں کمی کا فائدہ غیر ملکی ایئرلائنز کو ہوا ہے، جن میں لفتھانزا گروپ اور کیتھے پیسیفک شامل ہیں، جنہوں نے بھارت کے لیے اپنی سروسز میں اضافہ کیا ہے۔

ایئر انڈیا کو گزشتہ سال گجرات میں ڈریم لائنر طیارے کے حادثے کے بعد بھی شدید تنقید اور دباؤ کا سامنا رہا، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنگاپور ایئرلائنز نے واضح کیا کہ وہ ایئر انڈیا میں اپنی سرمایہ کاری کے لیے اب بھی پرعزم ہے، تاہم ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات آئندہ مالی سال میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں