1989 میں دنیا نے ٹی وی اسکرینوں پر وہ منظر دیکھا جب ایک سپر پاور خاموشی سے افغانستان سے واپس لوٹ رہی تھی۔ یہ وہ تاریخی لمحے تھے جب سوویت افواج ٹینکوں پر سوار، سرخ پرچم تھامے، افغانستان میں ایک دہائی پر محیط اپنی جنگ سمیٹتے ہوئے دریائے آمو پر قائم “دوستی پل” کو عبور کر رہی تھیں۔
یہ فوجی انخلاء تاریخ کے ایک پورے باب کا اختتام تھا،اور اس کا خاموش گواہ دریائے آمو تھا۔
شمالی افغانستان اور ازبکستان کے درمیان بہنے والا یہ دریا صدیوں سے تہذیبوں، سلطنتوں، جنگوں اور سرحدوں کی کہانی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
قدیم یونانی اسے “آکسَس” کہتے تھے، جبکہ عرب مورخین نے اسے “جیحون” کے نام سے یاد کیا۔ بخارا، خوارزم اور بلخ جیسی عظیم تہذیبیں اسی دریا کے کنارے آباد ہوئیں۔ صدیوں تک یہ دریا وسطی ایشیا کی تجارت، ثقافت اور سیاست کی شہ رگ سمجھا جاتا رہا۔
دریائے آمو دراصل وکھش اور پنج دریا کے سنگم سے بنتا ہے اور پھر مغرب اور شمال مغرب کی طرف بہتا ہوا وسطی ایشیا کے وسیع صحراؤں کو چیرتا چلا جاتا ہے۔ اپنے بالائی حصوں میں یہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے درمیان قدرتی حد بندی بناتا ہے، جبکہ نچلے حصے میں ازبکستان اور ترکمانستان کے درمیان سرحدی لکیر کا کردار ادا کرتا ہے۔
لیکن یہ سرحد ہمیشہ سے ایسی واضح نہیں تھی جیسی آج دکھائی دیتی ہے۔
اٹھارویں صدی کے وسط میں جب احمد شاہ ابدالی نے جدید افغانستان کی بنیاد رکھی اور درانی سلطنت قائم کی، تو دریائے آمو کے آس پاس کے علاقے مختلف طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کا مرکز تھے۔ اسی زمانے میں بخارا کی امارت بھی ایک مضبوط علاقائی قوت تھی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق امیر بخارا شاہ مراد نے دریائے آمو کو افغانستان کے ساتھ ایک قدرتی سرحد کے طور پر تسلیم کیا۔
اس سے پہلے صدیوں تک یہ خطہ ایک غیر واضح سرحدی پٹی کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں قبائل، مقامی ریاستیں اور سلطنتیں مسلسل بدلتی رہتی تھیں۔
انیسویں صدی میں حالات اس وقت بدلے جب وسطی ایشیا میں روس اور برطانیہ کے درمیان طاقت کی کشمکش شروع ہوئی، جسے تاریخ میں “گریٹ گیم” کہا جاتا ہے۔
ایک طرف برطانوی سلطنت برصغیر میں اپنی گرفت مضبوط کر چکی تھی، جبکہ دوسری جانب روس وسطی ایشیا تک پھیل چکا تھا۔ دونوں طاقتیں افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی تھیں۔ یہی کشمکش بعد میں اینگلو افغان جنگوں کا سبب بھی بنی۔
اسی دوران دریائے آمو پہلی بار واضح سیاسی سرحد میں تبدیل ہونا شروع ہوا۔
1873 میں برطانیہ اور روس کے درمیان ایک معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ دریائے آمو کو افغانستان کی شمالی سرحد کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ بعد ازاں 1885 سے 1887 تک مشترکہ بارڈر کمیشن نے اس سرحد کی باقاعدہ حد بندی کی۔
1895 کے پامیر کنونشن نے مشرقی پامیر کے علاقوں میں بھی سرحدی خطوط واضح کیے اور یوں دریائے آمو روسی وسطی ایشیا اور افغانستان کے درمیان مستقل حد بندی بن گیا۔
پھر وقت نے ایک اور موڑ لیا۔ روسی سلطنت ختم ہوئی، سوویت یونین وجود میں آیا اور وسطی ایشیا مختلف سوویت ریپبلکس میں تقسیم ہو گیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں دریائے آمو ایک “کلوزڈ بارڈر” بن گیا، جس کے دونوں کناروں پر دو مختلف دنیا آباد تھیں۔
اسی سرحد پر بعد میں ایک اور تاریخی علامت “فرینڈشپ برج” یا دوستی پل تعمیر کیا گیا۔
ترمذ اور حیرتان کو ملانے والا یہ پل سنہ 1982 میں سوویت یونین نے افغان جنگ کے دوران تعمیر کیا۔ اس کا مقصد فوجی رسد اور نقل و حرکت کو آسان بنانا تھا، لیکن چند برس بعد یہی پل سوویت شکست اور واپسی کی علامت بن گیا۔
فروری 1989 میں جب سوویت افواج نے افغانستان چھوڑا تو آخری فوجی دستے نے اسی پل کو عبور کیا۔ دنیا بھر میں نشر ہونے والی ان تصاویر میں روسی ٹینک خاموشی سے دریائے آمو پار کر رہے تھے۔
وہ منظر آج بھی تاریخ کے حافظے میں محفوظ ہے ۔ ایک ایسی سلطنت کی واپسی، جو افغانستان میں داخل تو طاقت کے ساتھ ہوئی تھی، مگر واپس خاموشی سے لوٹی۔